Wednesday | 19 June 2019 | 15 Shawaal 1440

Fatwa Answer

Question ID: 100 Category: Social Dealings
Hijab in Western Societies

Assalamualaikum Warahmatullah

I do understand the description of hijab in the Quran. However due to some past and present experiences my mother has an aversion towards people who do hijab. Whenever I try to tell her that I want to put on the headscarf, she completely loses her mind. She also fears for may safety and security in the current circumstances. Another fear she has is that I may not get my desired job or it may hamper my growth in my chosen field of education i.e. Medical Sciences.

How do I convince her to let me wear a headscarf? When I try to explain, she becomes angry and says I can do whatever I like but it is clear that she is hurt.

All these things affect me because at some point it starts shaking my beliefs and I am not absolutely confident of my wishes anymore. I have forever looked for approval in my mother's eyes but even the mere discussion of this topic irritates her.

I am married. My mother in law says we should adjust according to the place of residence and if there are security issues, Allah Subhanahu Wa Ta‘ala will understand and forgive. She has clearly asked me not to wear hijab in public. My husband also has many fears and insecurities about this topic but he says he will support my decision whatever it may be.

What should I do in this situation?

Walaikumassalam Warahmatullah

الجواب وباللہ التوفیق

First of all we make dua for you that may Allah Subhanahu Wa Ta‘ala give you steadfastness and courage, succeed you in your aspirations and give you tawfeeq to follow the exalted teachings of Islam. As far as performing the hijab and its effect on not being able to find a job is concerned, you should remember that your protection and your rizq both are responsibilities that are with Allah Subhanahu Wa Ta‘ala. We can see in the society, there are so many people without hijab, neither their honor is safe from the evil eyes of the fussaq and adulterers, nor they are employed. If we observe carefully, true protection and safeguarding is in wearing hijab. Allah Subhanahu Wa Ta‘ala has kept the earning with respect and honor in only following the exalted teachings of Islam. Regarding this topic, we would recommend that you do not focus on the statements from your mother and mother-in-law, try and counsel them with kindness and remain steadfast on the commandments of Allah Subhanahu Wa Ta‘ala. It is a hadith of Rasulullah Sallallaho Alyhi Wasallam:

لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق

Which means one cannot obey the creation by disobeying the creator.

Therefore, keep the commandments and pleasure of Allah Subhanahu Wa Ta‘ala first and foremost, you are answerable to Him and not your mother on the day of judgement. May Allah Subhanahu Wa Ta‘ala give all of us hidayat.

واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 100 Category: Social Dealings
مغربی ممالک میں حجاب کرنے سے متعلق

 

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مجھے حجاب کے جو احکامات قرآن کریم میں آئے ہیں ان کا علم ہے۔ البتہ ماضی اور حال کے کچھ خدشات اور واقعات کی روشنی میں میری والدہ کو اس سلسلے میں بہت سارے تحفظات ہیں اور وہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتیں جو حجاب کرتے ہیں۔ میں جب بھی ان کو یہ بتاتی ہوں کہ میں حجاب کرنا چاہتی ہوں وہ شدید غصہ میں آ جاتی ہیں۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ آج کل کے حالات میں ایسا کرنا حفاظتی تدابیر وغیرہ کے بھی خلاف ہیں۔ ایک ڈر ان کو یہ بھی لگتا ہے کہ میرے اسکارف پہن لینے سے مجھے میری فیلڈ میں جاب نہیں مل سکے گی یعنی میڈیکل فیلڈ میں۔ میں ان کو کس طرح اس بات پر آمادہ کروں کہ وہ مجھے سر پر اسکارف پہننے دیں؟ میں جب بھی ان کو سمجھانے لگتی ہوں وہ کہہ دیتی ہیں کہ تم جو چاہو کرو لیکن مجھے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ناراضگی کے ساتھ یہ سب کہہ رہی ہیں۔

ان سب باتوں کا مجھ پر بہت اثر ہوتا ہے کیونکہ ایک مقام پر آ کر میرا ایمان و یقین متزلزل ہونے لگتا ہے اور میں اپنی ہی خواہشات سے ناخوش رہنے لگتی ہوں۔ میں نے ہمیشہ اپنی ماں کی نظروں میں بہتر بننے کی کوشش کی ہے لیکن اس بات کا ذکر کرتے ہی وہ غصے میں آ جاتی ہیں۔

میں ایک شادی شدہ عورت ہوں، میری ساس کا کہنا یہ ہے کہ ہم جہاں رہتے ہیں ہمیں وہاں کے طور طریقوں کے مطابق ڈھل جانا چاہئے۔خاص کر اگر ہم کوئی کام اپنے آپ کو دوسروں کے شر سے محفوظ رکھنے کے لئے کرتے ہیں تو یقینا اللہ پاک بھی اس بات کو سمجھتے ہیں اور ہمیں معاف کر دیں گے۔ انھوں نے مجھے پبلک میں اسکارف پہننے سے روک دیا ہے ۔ میرے شوہر کو بھی اس سلسلے میں کافی تحفظات ہیں لیکن ان کا کہنا یہ ہے کہ وہ میرے ہر فیصلے میں میرا ساتھ دیں گے۔ مجھے اس صورت حال میں کیا کرنا چاہئے۔

 

 

 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ             

الجواب وباللہ التوفیق

اولا تو ہم آپ کے لئے دعاکرتے ہیں کہ اللہ پاک آپ کو ہمت اور حوصلہ دے،اور آپ کے ارادوں کو کامیاب کرے،اوردین پر چلنے کی توفیق عطافرمائے، رہا حجاب سے تحفظ اور ملازمت کے نہ ہونے کا خدشہ تو یاد رکھیں کہ حفاظت بھی اللہ کے ذمہ ہے اور رزق بھی اللہ کے ذمہ ہے،کتنے ہی لوگ بے حجاب ہیں لیکن ان کی عزت نہ فساقوں ،فاجروں اور زانیوں کی نظروں سے محفوظ ہے اور نہ ملازمت انہیں حاصل ہے، در اصل دیکھاجائے تو حجاب ہی میں حفاظت اور تحفظ ہے،اور اسلام پر چلنے ہی میں اللہ نے عزت کے ساتھ روزی رکھی ہے،اس سلسلہ میں آپ اپنی والدہ اور ساس کی باتوں کی طرف توجہ نہ دیں، نرمی سے انہیں سمجھا تےرہیں،حکم خداوندی کی اتباع کریں، حدیث میں اللہ کے نبی نے فرمایا:

لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق

کہ خالق کی نافرمانی کرکے مخلوق کی اطاعت نہیں کی جاسکتی ،اس لئے اللہ کی مرضی اور اس کے حکم کو سامنے رکھیں،کل کے دن اسی کو جواب دینا ہوگا،والدہ کو نہیں،اللہ پاک سب کو ہدایت عطافرمائے۔

فقط واللہ اعلم بالصواب