Friday | 27 November 2020 | 12 Rabiul-Thani 1442

Fatwa Answer

Question ID: 154 Category: Dealings and Transactions
Husband's Statement About Divorce

Assalamualaikum Warahmatullah

My husband was bay‘t with a peer who made my husband perform non-Shar‘ai acts and forbade him to follow the obligatory and mandatory actions of the Islamic Shari‘ah. I was unaware of these details at the time when I got married to him. I expressed my concern to my husband about this peer being a bad influence. After I came to Canada to start living with my husband, that peer started telling him that since he (my husband) is such a sinner he should stop living with a girl like me and asked him to drop me off to my parents. He also told my husband that due to his sins his ba‘yt with him had become annulled. After that my husband continued to cry all the time stating how sinful he is, he stated things such as, “I see snakes in my dreams”, “I have been destined to go to jahannam”, “I see in my dreams that we have been divorced” etc. He used to tell me that we will be divorced, or he will lose his job according to his dreams, and it so happened that he did lose his job. Then we came to our in-laws’ house and he also got checked by doctors who said that he is going through severe depression and mental issues, the doctors started treating him for this situation. He started getting suicidal thoughts and then he left me alone with his parents and went to Toronto by himself. I lived there for a while and then requested my father in law for help who sent me to Toronto. When I reached there, my husband got really mad at me but then our life became normal. Just after 15 days, he started saying things like “your signals are too strong”, “you are controlling my mind” and that “you should sleep separately.” This went on for around 2 years, and he kept on thinking that I am controlling her mind or others are controlling his mind, when there was no reality in all of this. The very next day, he started saying, “your mental signals are very strong, I can’t withstand them, leave, go anywhere you like, I cannot live like that, I want to live alone.” At that point, I left and started leaving with my relatives. A few days later when I came back to my in-laws’ house, my sister in law told me that my husband had called her and informed her that we have been divorced. When I contacted my husband and inquired about it, he said that he made no such statement, rather he said he may have said “maybe divorce will happen”. Please guide me regarding this situation if our divorce has taken place or not.

 

 

Walaikumassalam Warahmatullahi Wabarakatuhu

الجواب وباللہ التوفیق

In the matter of issuance or non-issuance of divorce, if there is suspicion and no surety, then from a Shar‘ai standpoint, divorce will not be considered officiated. Therefore, the husband should be inquired to think hard, try to remember (with the fear and majesty of Allah Subhanahu Wa Ta‘ala in mind) and tell the truth. If there is a stronge belief regarding uttering the words for issuance of divorce, then the divorce will be considered valid.

You should provide those words in order to get an exact ruling in that situation. If however, such a stronge belief is not there and there is still suspicion, then the divorce will not take effect.

منہا: شک ہل طلق أم لا لم یقع۔ (الأشباہ قدیم مطبع دارالعلوم دیوبندص ۱۰۸، جدید زکریا ۱/۱۹۶)

عدم الشک من الزوج في الطلاق وہو شرط الحکم بوقوع الطلاق حتی لو شک فیہ لا یحکم بوقوعہ۔

(بدائع الصنائع، کتاب الطلاق، فصل في الرسالۃ قدیم۳/۱۲۶، زکریاجدید ۳/۱۹۹)

فقط واللہ اعلم بالصواب

 

 

Question ID: 154 Category: Dealings and Transactions
شوہر کا طلاق کے بارے میں جملہ ادا کرنا

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،

میرے شوہر ایک پیر سے بیعت تھے جو غیر شرعی چیزوں پر عمل کراتے تھے ،اور فرض اور شرعی چیزوں کی پابندی سے منع کرتے تھے ،مجھے یہ بات شادی کےوقت معلوم نہیں تھی ، میں نے اپنے شوہر سے اپنی اس بات کا اظہار کیا کہ پیر صاحب صحیح نہیں   ہے، پھر جب کینڈا میں اپنے شوہر کے پاس آئی ،تو چند ہی مہینوں بعد اس پیر نے میرے شوہر کو کہا کہ تم بہت گناہ گار ہو، اس لڑکی کو اپنے ساتھ مت رکھو،اور اسے اس کے ماں باپ کے پاس چھوڑ آؤ ،اور ہم سے تمہاری بیعت ٹوٹ گئی ہے ، تمہارے گناہوں کی وجہ سے   اس کے بعد سےمیرے شوہر ہروقت دن رات روتے رہتے تھے اور کہتے تھے کہ میں گناہ گار ہوں ، مجھے سانپ نظر آتے ہیں ،مجھ خوابوں میں سانپ نظر آتے ہیں ،اور میرے نصیب میں جہنم لکھ دیا گیا ہے ،اور کبھی وہ یہ دیکھتے تھے کہ ہماری طلاق ہوگئی ہے ،وہ مجھ سے کہتے ہیں کے ہمیں طلاق ہوجائے گی، اور خواب میں دیکھتے کہ جاب چھوٹ جائے گی ،تو ان کی جاب واقعۃً چھوٹ بھی گئی ، پھر ہم اپنے سسرال آگئے ، ان کو ہم نے دواخانہ میں ڈاکٹر کے پاس بھی دکھا یا، اور ڈاکٹروں کا یہ کہنا تھا کہ وہ شدید ڈپریشن اور ذہنی تناؤ اور پریشانی کا شکار ہیں ، اور پھر ان کا اس سلسلہ میں علاج بھی شروع کیا گیا تو پھر ان کو خودکشی کے خیالات آنے لگے ، پھر وہ ٹورنٹو چلے گئے ، مجھے سسرال میں ہی چھوڑ کر میں کافی عرصہ وہاں رہی پھرمیں نے اپنے سسر سے کہا کہ میں اپنے شوہر کے پاس واپس جانا چاہتی ہوں ، تو انہوں نے مجھے ٹورنٹو بھیج دیا جب میں وہاں پہونچی تو میرے شوہر مجھ پر بہت غصہ ہوئے لیکن پھر ہماری زندگی نارمل ہوگئی ،ابھی تقریباً پندرہ دن ہی گزرے تھے تو پھر انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کا سگنل بہت اسٹرانگ ہے ، اورآپ دماغ کو کنٹرول کرتی ہیں ، اس لئے الگ سو جائیں ، ایسی باتیں وہ دو سال سے کررہے ہیں ، اپنے ذہنی ڈپریشن کی وجہ سے ان کے ایسا لگتا ہے کہ میں ان کے ذہن کو قابو کرتی ہوں، حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ،اور انہیں اپنے ڈپریشن کی وجہ سے ہر شخص کے ساتھ ایسے ہی اسی قسم کی فیلنگ محسوس ہوتی رہتی ہے کہ لوگ ان کے دماغ کو قابو کررہے ہیں وغیرہ اگلے ہی دن انہوں نے یہ حکم دیا کہ تم یہاں سے چلی جاؤ کیونکہ تمہارے ذہنی سگنل بہت اسٹرانگ ہے میں اس کو برداشت نہیں کرسکتا لہذا میں اکیلا رہنا چاہتا ہوں ، اور جہاں جانا چاہے چلی جاؤ ،اس طرح میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتا ،تو پھر میں اپنے رشتہ داروں کے گھر چلی گئی کچھ دن کے بعد واپس سسرال آگئی تو میری نند نے کہا کہ اسے میرے شوہر نے فون کرکے بتایا ہے کہ آپ لوگوں کی طلاق ہوگئی ہے ۔اپنے شوہر کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے تو ایسا نہیں کہا میں نے تو یہ کہا تھا کہ طلاق ہوجائیگی یا شائد کہہ دیا ہوں،تو آپ اب اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں کہ میں اب کیا کروں ،مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ طلاق اس سے ہوئی ہے یا نہیں۔

 

 

الجواب وباللہ التوفیق

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

طلاق دینے نہ دینے میں اگرشک ہو یقین نہ ہوتو شرعاً طلاق کا حکم نہ ہوگا،اس لئے شوہر سے کہاجائے کہ وہ اچھی طرح سوچے اوریاد کرے اور اللہ کےخوف کا استحضار کرکے صحیح صحیح بات بتادے،اگر طلاق کے الفاظ کہہ دینے کا ظن غالب ہے تو اس سے طلاق واقع ہوگی، ان الفاظ کو لکھ کر دوبارہ مسئلہ معلوم کرلیں، اور اگر ظن غالب نہ ہو بلکہ شک ہی باقی رہے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔

منہا: شک ہل طلق أم لا لم یقع۔ (الأشباہ قدیم مطبع دارالعلوم دیوبندص ۱۰۸، جدید زکریا ۱/۱۹۶)

عدم الشک من الزوج في الطلاق وہو شرط الحکم بوقوع الطلاق حتی لو شک فیہ لا یحکم بوقوعہ۔

(بدائع الصنائع، کتاب الطلاق، فصل في الرسالۃ قدیم۳/۱۲۶، زکریاجدید ۳/۱۹۹)

فقط واللہ اعلم بالصواب