Saturday | 18 August 2018 | 6 Dhul-Hajj 1439

Fatwa Answer

Question ID: 180 Category: Business Dealings
Figurative Speech in Anger Without Intention to Divorce

Assalamualaikum, I have a question regarding something that my husband said to me, while being in a state of anger, which I did not even hear. My husband was really upset with my behavior and thought that may be by leaving the house for a few days and staying in a hotel will help in resolving these issues. In the heat of the moment, he said to me, "Consider this Separation". Of course, by this sentence, he did not intend to give talaq, rather his intention was to live separately for a few days and show me that he was upset. This way, I will understand the gravity of the situation and he can get some time off to cool down and think logically. Would this be considered talaq, when the word "talaq" was never uttered, and also there was no intention of talaq, not even a thought of it. Also, do we have to perform Tajdeed-e-Nikah.

Walaikumassalam Warahmatullahi Wabarakatuhu

الجواب و باللہ التوفیق

If in reality, the husband did not intend to divorce his wife using the words mentioned in the question, then talaq would not take effect and there is no need for renewing the Nikah.

وَلَا شَيْءَ مِنْ الْكِنَايَةِ يَقَعُ بِهِ الطَّلَاقُ بِلَا نِيَّةٍ(رد المحتار:۱۱/۱۷۴)

فقط واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 180 Category: Business Dealings
غصہ کی حالت میں بلا نیت طلاق کہے گئے الفاظ کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میرا سوال ہے کہ اگر شوہر غصے میں بیوی کو کچھ کہتا ہے اس انداز سے کہ اس کی بیوی نے سنا تک نہیں ، تو اس کا کیا حکم ہو گا۔ شوہر اپنی بیوی کے رویہ سے بہت پریشان تھا لہذا اس نے یہ سوچا کہ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ کچھ دن گھر چھوڑ کر علیحدہ ہو ٹل میں رہا جائے ،اسی گرما گرمی میں اس نے اپنی بیوی سے کہا "اس کو علیحد گی سمجھو"(یہ جملہ کہتے ہوئے شوہر کا طلاق کا کوئی ارادہ نہیں تھا بس بیوی سے علیحدہ رہ کر اس کو ناراضگی کا احساس دلانا تھا ) تا کہ بیوی کو اس مسئلے کے گھمبیر   ہونے اور اپنے شوہر کی اہمیت کا احسا س ہو جائے اور ساتھ ہی شوہر کو خود بھی کچھ وقت ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کا مل جائے۔

کیا اس کو طلاق مانا جائے گا جبکہ طلاق کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا اور نہ ہی طلاق کا ارادہ اور نیت تھی نہ ہی طلاق کی کوئی سوچ ۔کیا ان کو تجدیدِ نکاح کرنا چاہے۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب وباللہ التوفیق

اگر واقعتا شوہر نے ان الفاظ سے طلاق کی نیت نہیں کی ہےتو طلاق واقع نہیں ہوگی۔اور نئے نکاح کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

وَلَا شَيْءَ مِنْ الْكِنَايَةِ يَقَعُ بِهِ الطَّلَاقُ بِلَا نِيَّةٍ(رد المحتار:۱۱/۱۷۴)

فقط واللہ اعلم بالصواب