Saturday | 18 August 2018 | 6 Dhul-Hajj 1439

Fatwa Answer

Question ID: 181 Category: Miscellaneous
Supporting a Relative Financially

Assalamualaikum Warahmatullah,

I have a twin brother who used to live with me as because of his status he couldn't work at that time. Due to this reason, he did not leave a very good impression on my wife during the early days of my marriage. He then moved back home, got married and then started working in Saudi Arabia. Ever since he got married (for 10 years now), I never helped him, and he never asked for help, whenever he did it was in a manner of joking and not a real need. I did not send him any money either because I wanted to get a house for my family first. Now that I have bought a house and deposited some money in my wife’s account, just recently, I found out that he was in need because of the economic condition in Saudi Arabia. I asked my other brother to send the money to this brother in Saudi Arabia, as the other brother owed me, so the other brother sent him the money and my wife knew about it. After two or three months, I again found about his position that he had some debt as he owed someone else, so I sent some more money twice to help him, but this time I didn't tell my wife. A few weeks back, my wife asked me a trick question, I could not lie so informed her about the amount that I had sent. She got upset that when she asked me to help him I did not help but later I did. It was not a lie, as at that time I was not going to send him any money. However, later when I found out that he needed money I sent it. My wife and I had a big fight over this.

I tried explaining to my wife that it is my money and if I give this money in charity, then the best charity will be to give to my family members in need. Nevertheless, she is thinking that he is getting a free ride and I am going to spoil him by sending him money. She wants to know each time how much money I am send him. I am against this idea since I want to be able to spend without anyone's knowledge. I agreed with her that for bigger amounts, we can discuss, but for smaller amounts I should be able to send without telling her.

My question is, does the wife has the right to know every time I spend? Can she ask me not to spend on a specific individual? Can she limit the amount, when I have enough and I am fulfilling the needs of my family already? What if this causes fights between us. Should I give up? Or should she? Because either of us have to come to terms in order to stop the fight. If I give up, then my family members might suffer. I know that other family members are also trying to help but they cannot do that much.

JazakAllah

Wassalam

Walaikumassalam Warahmatullahi Wabarakatuhu

الجواب وباللہ التوفیق

You are the owner of your money, you have the right to spend wherever you please, no one else has a say in it to stop you from spending. If you are taking care of all of your wife’s expenses and needs, then even the wife does not have a right to make such statements and interfere in your financial support. In addition, it is an appropriate gesture to help one’s family members instead of someone else, especially the ones who are in need. The messenger of Allah has informed us about double reward in doing so i.e. one for spending for the sake of Allah i.e. sadaqah and second for doing silah-rehmi (establishing and strengthening relationship with one’s relatives). Therefore, you should counsel your wife about the fact that maybe the financial advancement and benefits you have are due to the barakah of these gestures and Allah Subhanahu Wa Ta‘ala will InshahAllah provide further barakah in your finances as a result.

Additionally, you should also adopt a strategic solution to some degree for resolving this issue, understand real need vs unreal need, counsel your brother regarding it and produce ways for him that he becomes safe from asking from others.

Wassalam

 

Question ID: 181 Category: Miscellaneous
رشتے داروں کی مالی امداد کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میرا ایک جڑواں بھائی ہے، جو میرے ساتھ رہتا تھا اور اپنے امیگریشن اسٹیٹس کی وجہ سے وہ اس وقت کام نہیں کرسکتا تھا۔اس وجہ سے ہماری شادی کے شروع شروع کے دنوں میں میری بیوی کے اوپر اس کا تأثر اچھا نہ پڑا ۔پھر وہ واپس ہمارے ملک منتقل ہو گیا اور اس نے شادی کر لی پھر جاب کی غرض سے سعودی عرب چلا گیا ، اس کی شادی کو اب دس سال ہو گئے ہیں ۔ میں نے کبھی اس کی مدد نہیں کی اور نہ اس نے کبھی مدد مانگی۔ان سالوں میں کبھی اس نے کہا بھی تو مذاقا ہی لہذا میں نے کبھی اس کو پیسے نہیں بھیجے کیونکہ میں پہلے اپنے اہل و عیال کے لیے گھر بنانا چاہتا تھا۔ اب گھر بن گیا اور میں نے کچھ پیسے اپنی بیوی کے اکاؤنٹ میں جمع کروا دیے ہیں۔ اب مجھے پتا چلا ہے کہ میرے بھائی کو ضرورت ہے چونکہ سعودی عرب کے حالات اچھے نہیں لہذا میں نے اپنے دوسرے بھائی کو کہا کہ اس بھائی کو کچھ پیسے بھیج دو (میرے پیسے اس کے پاس تھے اس نے بھیج دئیے)۔اس بارے میں میری بیوی کو کسی طرح پتہ چل گیا ۔ دو تین ماہ کے بعد مجھے دوبارہ اس کے حالات کا پتہ چلا اور اس سے بات کرنے پر معلوم ہوا کہ اس نے کسی سے قرض لیا ہوا ہے جو اسے واپس لوٹانا ہے، لہذا میں نے پھر میں نے دو بار اس کو پیسے بھیجے مگر اپنی بیوی کو نہیں بتایا ۔ ابھی چند ہفتے پہلے اس نے مجھ سے پو چھا، میں جھو ٹ نہیں بول سکا اور اس کو بتا دیا ۔اب وہ اس بات پر ناراض ہے کہ جب اس نے کہا کہ میں بھائی کی مدد کروں تو میں نے مدد نہیں کی اور کہا کہ میں اس کی مدد نہیں کر رہا، لیکن بعد میں مدد کی۔میں نے اپنی صفائی پیش کی اور بتایا کہ واقعتا اس وقت پیسے نہیں بھیجے لہذا یہ جھوٹ نہیں اور جب مجھے پتہ چلا کہ اس کو پیسے چاہئے ہیں تو میں نے اس کی مدد کر دی، اس مسئلے کو لے کر ہمارے درمیان بہت بڑی لڑائی بھی ہوئی۔

میں نے اپنی بیوی کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ میرے پیسے ہیں اور کسی خیراتی ادارے میں دینے سے بہتر ہے کہ میں اپنے خاندان میں کسی ضرورت مند کی مدد کر دوں مگر وہ سوچ رہی ہے کہ وہ مجھ سے پیسے لے کے مزے کر رہا ہے اور میں اس طرح سے اپنے بھائی کی عادت بگاڑ رہا ہوں ۔وہ چاہتی ہے کہ میں جب بھی اس کو پیسے بھیجوں تو اس کو اطلاع کروں کہ کتنے اور کب کب بھیج رہا ہوں، جب کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ میں جو بھی خرچ کروں اس کے بارے میں کسی کو پتہ چلے ۔پھر ہمارے درمیان یہ طے ہوا کہ اگر بڑی رقم ہو ئی تو ہم مشورہ کریں گے مگر چھوٹی رقم کو میں اس کو بتائے بغیر بھی بھیج سکوں گا ۔

میرا سوال یہ ہے کیا بیوی کو اس بات کا حق ہے کہ وہ میرے پیسے کے بارے میں مجھے سے اس طرح کے تقاضے کرے؟ کیا مجھ پر فرض ہے کہ جہاں خرچ کر رہا ہوں اس کو اطلاع کروں؟ کیا وہ اس انداز سے حدود مقرر کر سکتی ہے کہ اتنے خرچ کروں تو اطلاع کروں ورنہ نہ کروں ؟ خاص کر کہ جب میرے پاس کافی مال ہے اور میں اپنے خاندان کی ساری ضرورتیں پوری کر رہا ہوں۔

اگر اس قسم کا رویہ لڑائیوں کو جنم دیتا ہو تو اس کا کیا حل ہے؟ اس مسئلے کو کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے ؟ کیا مجھے اس کی بات مان لینی چاہئے یا پھر اس کو میری بات پر چلنا چاہئے؟ اگر میں نے اس کی بات مان لی تو یہ بات تو طے ہے کہ میرے خاندان والے مزید پریشانی میں آئیں گے کہ میں ان کی کبھی ڈھنگ سے مدد نہیں کر سکوں گا ۔خاندان کے دوسرے لوگ بھی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ وہ لوگ ایک حد تک ہی کر سکتے ہیں ۔جزاک اللہ،والسلام۔

 

الجواب وباللہ التوفیق

آپ اپنے پیسوں کے مالک ہیں،آپ کو اختیار ہے کہ آپ اس کو جہاں چاہیں خرچ کریں،اس میں کسی کواختیار نہیں ہے کہ وہ آپ کو منع کرے،اگر آپ بیوی کے سارے اخراجات اور ضروریات پوری کررہے ہیں تو بیوی کو بھی ان باتوں کا اور آپ کے ان مالی امداد میں مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

اور یہ بات بھی مناسب ہےکہ آپ کسی اور کی مدد کے بجائے اپنے خاندان کے افراد ا اور ان میں سےضرورت مندوں کی مدد کریں،اللہ کے نبی نے اس میں دو اجربتائے ہیں،،ایک صدقہ یعنی خرچ کرنے کاد وسرے ان رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کا۔اس لئے آپ بیوی کو سمجھائیں کہ ہوسکتا ہے کہ اللہ نے ہماری لئے جو مالی فراونی کی ہو یہ اسی کی برکت ہے،اس کے ذریعہ ان شاء اللہ اللہ جل جلالہ مال میں برکت ہی دیں گے۔اس کے ساتھ تھوڑی حکمت عملی بھی اختیار کریں،واقعی ضرورت اور عدمِ ضرورت کا احساس کریں،بھائی کو بھی سمجھائیں اور اس کی کچھ اس طرح شکل بنائیں کہ لوگوں کے سامنے دست دراز کرنے سے وہ بھی محفوظ رہے۔ فقط والسلام