Saturday | 18 August 2018 | 6 Dhul-Hajj 1439

Fatwa Answer

Question ID: 185 Category: Business Dealings
Permissibility of Bitcoin and Other Cryptocurrencies

Assalamualykum, Would you please let me know if investing in Bitcoin or using the Bitcoin as currency is permissible in Islam? Is it permissible at all to use Virtual Currency? I live in UK does that make any difference, if not what makes it prohibited? I would really appreciate if you may answer the question in details. Jazakallahu Khaira

Walaikumassalam Warahmatullahi Wabarakatuhu

الجواب و باللہ التوفیق

Regarding this issue, please review this fatwah in light of the fatawah issued from Darululoom Deoband and Jamia Uloom al-Islamiyah Binnori Town with significant variation.

Bitcoin or any other digital currencies are just imaginary currencies. They does not exhibit the fundamental qualities and conditions of real currencies, at all. And these days the trade adopted with such currencies over the internet and web applications, does not really involve any mabie‘ (actual buying and selling), neither does it fulfill the basic Shar‘ai conditions for the provision of bay‘. Instead, in reality, it is a form of interest and gambling which is based on an ambiguous transaction and fraud. Therefore, the businesses running in form of buying and selling of bitcoins or any digital currencies on the internet are not Halal (i.e. impermissible) in light of the Islamic Shari‘ah and it is also impermissible to invest money in them.

(Extracted from: Darul-Ifta Darululoom Deoband, Fatwa#: 155068 and 155275, October 12th 2017 & Jamia Uloom Islamiyah Binnori Town Karachi, Rajab al-Murajjab, 1438 Hijri)

قال اللہ تعالی:وأحل اللہ البیع وحرم الربا الآیة (البقرة: ۲۷۵)

،یٰأیھا الذین آمنوا إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون(المائدة، ۹۰)

وقال اللہ تعالی :ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان (سورة المائدة، رقم الآیة: ۲)

وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:إن اللہ حرم علی أمتي الخمر والمیسر(المسند للإمام أحمد،۲: ۳۵۱، رقم الحدیث: ۶۵۱۱)،

﴿وَلَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ أي بالحرام، یعني بالربا، والقمار، والغصب والسرقة (معالم التنزیل ۲: ۵۰)

، لأن القمار من القمر الذي یزداد تارةً وینقص أخریٰ۔ وسمی القمار قمارًا؛ لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذہب مالہ إلی صاحبہ، ویجوز أن یستفید مال صاحبہ، وہو حرام بالنص

(رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة،باب الاستبراء، فصل في البیع، ۹: ۵۷۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)

فقط واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 185 Category: Business Dealings
بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسی کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا اسلام میں بٹ کوائن اور اس جیسی کرنسیوں میں سرمایہ کاری کرنا جائز ہے؟ کیا ورچول کرنسی کو استعمال کرنے کی اجازت ہے؟ میں انگلینڈ میں رہتا ہوں ، کیا میری رہائش کی جگہ کا اس کی حلت و حرمت پر کوئی اثر پڑے گا؟ آپ کی بڑی مہربانی ہو گی اگر آپ تفصیلا میرے سوال کا جواب دے دیں۔جزاک اللہ خیرا۔

 

 

الجواب وباللہ التوفیق

اس مسئلہ کے متعلق دار العلوم دیوبند اور جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کی جانب سے جاری ہونے والا فتویٰ قدرے ترمیم کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں کہ بٹ کوائن یا کوئی بھی ڈیجیٹل کرنسی ، محض فرضی کرنسی ہے، اس میں حقیقی کرنسی کے بنیادی اوصاف وشرائط بالکل نہیں پائی جاتیں۔اور آج کل اس کی جوخرید وفروخت انٹرنیٹ اور اپلیکیش کے ذریعہ ہورہی ہے،اس میں حقیقت میں کوئی مبیع وغیرہ نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کاروبار میں بیع کے جواز کی شرعی شرطیں پائی جاتی ہیں؛ بلکہ در حقیقت یہ سود اور جوے کی ایک شکل ہے،جو ایک غیر واضح معاملہ ہے جو دھوکہ پر مبنی ہے، اس لیے بٹ کوئن یا کسی بھی ڈیجیٹل کرنسی کی خرید وفروخت کی شکل میں انٹرنیٹ پر چلنے والا کاروبار شرعاًحلال وجائز نہیں ہے،اوراس میں پیسے لگانا بھی جائز نہیں ہے۔

(مستفاد از دار الافتاء دارالعلوم دیوبند،فتویٰ نمبر :۱۵۵۰۶۸و ۱۵۵۲۷۵۔ ۲اکتوبر ۲۰۱۷ء ۔ وجامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی رجب المرجب،۱۴۳۸ھ)

قال اللہ تعالی:وأحل اللہ البیع وحرم الربا الآیة (البقرة: ۲۷۵)

،یٰأیھا الذین آمنوا إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون(المائدة، ۹۰)

وقال اللہ تعالی :ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان (سورة المائدة، رقم الآیة: ۲)

وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:إن اللہ حرم علی أمتي الخمر والمیسر(المسند للإمام أحمد،۲: ۳۵۱، رقم الحدیث: ۶۵۱۱)،

﴿وَلَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ أي بالحرام، یعني بالربا، والقمار، والغصب والسرقة (معالم التنزیل ۲: ۵۰)

، لأن القمار من القمر الذي یزداد تارةً وینقص أخریٰ۔ وسمی القمار قمارًا؛ لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذہب مالہ إلی صاحبہ، ویجوز أن یستفید مال صاحبہ، وہو حرام بالنص

(رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة،باب الاستبراء، فصل في البیع، ۹: ۵۷۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)

فقط واللہ اعلم بالصواب