Monday | 24 September 2018 | 14 Muharram 1440

Fatwa Answer

Question ID: 220 Category: Business Dealings
Money Gifted Specifically for Minor Kids

Assalamualaikum

I have minor kids and people sometimes gives money as gifts and says use it for the kids, so do I have to use every single $ for the kids ? If so what is the best way to use it for the kids, and if there is two kids do I have to use the money equally for both of them?  Jazakallah hu kairan.

Walaikumassalam Warahmatullahi Wabarakatuhu

الجواب وباللہ التوفیق

If the money gifted is specifically for the children, then it will be considered the children's property, the parents will not have a right to utilize it for themselves. However, it will be permissible for the parents to utilize this money for fulfilling the children's needs. If however, the parents are in dire need, then there is gunjaish (i.e. a provision for permissibility) for them to use this money.

If the person gifting that money specified one specific child, then it will be considered that particular child's property. If there was no such specification, then the total amount should be equally divided among the total number of children. If there is a need for the children which can be fulfilled with this money, the parents should use it for that purpose. Otherwise, once the children are baligh, it should be handed to them with hikmah.

فقط واللہ اعلم بالصواب

 

 

Question ID: 220 Category: Business Dealings
بچوں کے عنوان سے دئیے گئے ہدیہ کا حکم

السلام علیکم

میرا سوال یہ ہے کہ میرے چھوٹے بچے ہیں، لوگ کبھی پیسے تحفے کے طور پر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بچوں کے لئےاستعمال کر لینا، تو اس صورت میں کیا اس تحفے کا ایک ایک ڈالر بچوں کے لئے استعمال کرنا ضروری ہے؟ اگر ہاں تو اس کو استعمال کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہو گا؟ اگر دو بچے ہیں تو کیا دونوں کے لئے اس پیسے کو برابر استعمال کیا جانا ہو گا؟جزاک اللہ خیرا۔

 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب وباللہ التوفیق

تحفوں کے پیسے اگر خاص بچوں ہی کے لئے دئے گئے ہیں تو وہ بچوں ہی کے ہوں گے،ان میں ماں باپ کو تصرف کا حق نہ ہوگا،ہاں صرف بچوں کی ضروریات میں انہیں خرچ کیا جاسکتا ہے،البتہ اگر ماں باپ کو سخت ضرورت ہوتو اس وقت ان کو لینے کی گنجائش ہے۔

ہمارے معاشرہ میں بہت سےہدایا بچوں کے نام سے تو دئے جاتے ہیں لیکن ہدیہ دینے والوں کا مقصد والدین کو دینا ہوتا ہے جس کو قرائن سے جانا جاسکتا ہے اس وقت وہ پیسے والدین خود استعمال کرسکتے ہیں۔

ہدیہ دینے والے اگر خاص کسی ایک بچے کو وہ پیسےدئے ہیں تو وہ اسی کے ہوں گے اور اگر مطلقا دئے جائیں تو جتنے بچے ہیں سب کے لئے برابر رکھ دیں،اگر بچوں کی ضرورت ہوتو اس میں استعمال کیا جاسکتا ہے،اگر ضرورت نہیں ہے تو بالغ ہونے کے بعد حکمت سےان کے حوالہ کردینا چاہیے۔

فقط واللہ اعلم بالصواب