Wednesday | 14 November 2018 | 6 Rabiul-Awal 1440

Fatwa Answer

Question ID: 246 Category: Permissible and Impermissible
Masturbation and its Expiation

Assalamualaikum

I am a young teen and I have had a problem with masturbation and pornography for a number of years now. I feel its desire, then I commit both after trying to restrain myself, and either I stop for a couple of weeks or I keep masturbating till all of my desires are gone for another couple weeks. The longest I have lasted was about a month. Even in Ramadan and after 'Umrah I still have not been able to stop. Marriage isn't an option in the USA at such a young age, parents dont understand this situation. Please advise what I should do and make dua for me.

I masturbated and watched pornography out of desire. Since Ramadan was approaching, I felt really guilty and I swore to Allah and upon Hs glory and might that I wouldn't do it from that day till the end of Eid. I ended up commiting the same acts two days later. How do I expiate for this sin?

I have also been attracted to a white girl from my grade since the beginning of my school year. Alhamdulillah I haven't done any big moves on her and have mainly kept this to me and some others. I made dua and I still do from time to time for her guidance. I would really like if she found guidance and we could get married. I know this might be foolish/funny, but I truly want this to happen. I understand that it is just hormonal as I have gotten over other females before with the same feelings, but I want this to happen. What is the maximum extent to which I can interact with her? What can I talk to her about? Can I talk to her about Deen? Should I be making du'aa for her and if so how much?

I have completed 5 years at a hifz madrasah and I am now in highschool and Allah has given us the ability to pray Jumu'a there, and I lead. It is sad that I do these sins and then carry out such a magnificent task that I am unworthy of. There are other boys that have varying knowledge of Deen, but I say this as the reality and not to demean anyone, their knowledge isn't too much although they might be better than me in the sight of Allah, I have led for 5 weeks straight, should I give the other boys a chance to lead the Jumu'a if they prepare for it? Please make du'aa for you brother in need,

May Allah accept and reward you.

الجواب وباللہ التوفیق

Watching pornography, lewd pictures and masturbation is haram. In the ahadith of Rasulullah Sallallho 'Alyhi Wasallam, Allaah and His angels' curse has been mentioned for such actions. In some of the weak narrations, it is mentioned that the fingers of such a person will be pregnant on the day of judgement.

In other narrations it has been mentioned that Allah Subhanahu Wa Ta'ala will not cast his sight of mercy on such a person.

  1. Therefore, make sincere repentence
  2. Remind yoursef that Allaah Subhanahu Wa Ta'ala is always watching you
  3. Remind yourself and realize the severety of the above mentioned warnings
  4. Fast regularly
  5. Avoid being in seclusion
  6. Stop using the internet
  7. Remain in the company of pious people and elders and join their gatherings regularly
  8. Recite the 3rd Kalimah (i.e. tamjeed) 100 times each in the morning and the evening
  9. Whenever you are having such inclinations or thoughts then recite تعوذ (seeking refuge from Shaitan) اعوذ بااللہ من الشیطان الرجیم
  10. If it is possible then get married as soon as possible. In fact, in such a condition the Nikah becomes fardh (mandatory). It is seemingly necessary to mention a point in reference to the experts in medicine that those people who are in such a habit lose their potence very soon after marriage and they become unable to fulfill the physical rights of their wife

Keep these things in mind, Inshaa Allaah you will get rid of these bad habits.

As far as the امامت leading salat is concerned, until you make repentence and get rid of this habit, till then leading salah for you is considered makrooh, therefore you should avoid leading salah. After getting rid of this habit you can lead salah.

ألا لعنة الله والملائكة والناس أجمعين على …. على ناكح يده(کنز العمال:۴۴۰۵۸)

وإخراج المني باليد حرام في الكتاب والسنة قال الله تعالى: ?َالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ * إِلاَّ عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ * فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ العَادُونَ?[المؤمنون: 5، 6، 7] أي: الظالمون المتجاوزون الحلال إلى الحرام.

قال البغوي: في الآية دليل أن الاستمناء باليد حرام، وهو قول العلماء (2).

قال ابن جريج: سئلت عطاء عنه فقال: «بلغني عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: أن قوماً يحشرون وأيديهم حبالى» وأظنهم هؤلاء۔

( تفسير البغوي (3/303)۔ (شرح صحیح البخاری: لشمس الدین السفیری:۳۴/۲۷)

وعن سعيد بن جبير: عذب الله أمة كانوا يعثبون بمذاكيرهم (4).( تفسير البغوي (3/303).)

’’ ویکرہ امامۃ عبد واعرابی وفاسق واعمی قولہ وفاسق من الفسق وہوالخروج عن الاستقامۃ ولعل المراد بہ من یرتکب الکبائر کشارب الخمر والزانی واٰکل الربا ونحوذلک… واماالفاسق فقدعللوا کراہۃ تقدیمہ بانہ لایہتم لامردینہ وبان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقدوجب علیہم اہانتہ شرعا ولایخفی انہ اذاکان اعلم من غیرہ لاتزول العلۃ فانہ لایؤمن ان یصلی بہم بغیرطہارۃ فہوکالمبتدع تکرہ امامۃ بکل حال المنیۃ علی ان کراہۃ تقدیمہ کراہۃتحریم ‘‘ … ( درمختارمع الشامی : ۴۱۴ / ۱ )

الأولى بالإمامة أعلمهم بأحكام الصلاة. هكذا في المضمرات وهو الظاهر. هكذا في البحر الرائق هذا إذا علم من القراءة قدر ما تقوم به سنة القراءة هكذا في التبيين ولم يطعن في دينه. كذا في الكفاية وهكذا في النهاية.= ويجتنب الفواحش الظاهرة.(الفتاوی الھندیۃ:۱؍۸۳، الفصل الثاني في بيان من هو أحق بالإمامة)

فقط واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 246 Category: Permissible and Impermissible
مشت زنی اور اس کا کفارہ

السلام علیکم

میں ایک نوجوان لڑکا ہوں اور مجھے کئی برس سے فحش فلمیں دیکھنے اور مشت زنی کرنے کی بیماری ہے۔ مجھ میں ان دونوں کاموں کو کرنے کی بار بار خواہش پیدا ہوتی ہے اور باوجود اپنے آپ کو روکنے کے مجھ سے یہ کام سرزد ہو جاتا ہے۔ مثلا میں دو ہفتے تک اس عادت سے بعض رہ پاتا ہوں یا پھر مستقل دو ہفتے یہ کام کرتا رہتا ہوں حتی کہ میری خواہش ختم ہو جاتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ جو میں اپنے آپ کو روک سکا وہ ایک مہینے کے عرصے کے لئے تھا۔ حتی کہ رمضان میں اور عمرہ کرنے کے بعد بھی میں اس عادت سے بعض نہیں آ پایا۔ امریکہ میں اتنی چھوٹی عمر میں شادی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ والدین ان چیزوں کا نہیں سمجھتے۔ میری راہنمائی فرمائیے اور میرے لئے دعا فرمائیے۔

میں نے اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لئے فحش تصویریں دیکھیں اور مشت زنی کر لی، چونکہ رمضان آنے والا تھا، مجھے بہت ہی برا محسوس ہوا اور میں نے اللہ کی اور اس کی عظمت کی قسم کھائی کہ میں اس روز سے رمضان کےختم ہونے تک ایسا کوئی گناہ نہیں کروں گا، لیکن پھر دو روز بعد مجھ سے وہی گناہ پھر سرزد ہو گیا۔ مجھے کفارے کے طور پر کیا کرنا ہوگا؟

مزید یہ کہ میں اپنے ہائی اسکول کے شروع ہونے کے وقت سے ایک گوری لڑکی سے متاثر ہوگیا ہوں، الحمد للہ میں نے اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی، اور اس بات کا علم صرف مجھے اور چند اور دوستوں کو ہے۔ میں وقتا فوقتا اس کی ہدایت کے لئے دعا کرتا رہتا ہوں۔ مجھے بہت ہی اچھا لگے گا اگر اس کو ہدایت مل جائے اور ہم لوگ شادی کر لیں۔ مجھے علم ہے کہ یہ بچکانہ مذاق وغیرہ جیسی بات لگتی ہے لیکن میں واقعی چاہتا ہوں کہ ایسا ہو جائے۔ مجھے یہ بھی علم ہے کہ یہ سب جوانی آنے کی نشانیوں کے طور پر ہو رہا ہے اور اس قسم کے خیالات اور احساسات جو میرے ذہن میں دوسری لڑکیوں کے لئے تھے وہ آہستہ آہستہ ختم ہو گئے۔ اس کے ساتھ میں کس حد تک تعلق رکھ سکتا ہوں؟ اس سے کس قسم کی بات کر سکتا ہوں؟ کیا میں اس سے دین کے متعلق بات چیت کر سکتا ہوں؟ کیا میں اس کے لئے دعا مانگ سکتا ہوں، اگر ہاں تو کس حد تک؟

میں نے ۵ سال ایک حفظ کے مدرسے میں گزارے جس کے بعد اب میں ہائی اسکول جاتا ہوں، جہاں اللہ پاک نے مجھے جمعہ پڑھنے کی توفیق عطا کی ہوئی ہے، اور میں جمعے کی نماز کی امامت کرتا ہوں۔ میرے لئے یہ بات دکھ کا باعث ہے کہ میں ان گناہوں میں مبتلا رہتا ہوں اور پھر ایک ایسی ذمہ داری کو ادا کرنے جاتا ہوں جس کا میں ہرگز قابل نہیں۔ وہاں دوسرے ایسے لڑکے بھی ہیں جن کا علم دین کچھ کا کم اور کچھ کا زیادہ ہے، یہ میں حقیقت بیان کر رہا ہوں کسی کی تنقیص مقصود نہیں، لیکن ان لوگوں کا علم کچھ خاص حد تک نہیں، حالانکہ وہ شاید اللہ کے یہاں مجھ سے زیادہ بہتر ہیں، میں نے ۵ ہفتوں تک جمعہ پڑھایا ہے، کیا مجھے دوسرے لڑکوں کو بھی جمعہ پڑھانے دینے کا چانس دینا چاہئے اگر وہ تیاری کر کے آئیں؟براہ کرم اپنے اس پریشان مسلمان بھائی کے لئے دعا فرما دیں۔

اللہ آپ کی خدمت کو قبول فرمائے اور جزا عطا فرمائے۔

الجواب وباللہ التوفیق

فحش فلمیں اورتصاویر دیکھنا اور مشت زنی کرنا حرام ہے،احادیث میں ایسے عمل پر اللہ اور فرشتوں کی لعنت بیان کی گئی ہے۔ بعض ضعیف روایات میں ہےکہ ایسے شخص کی انگلیاں قیامت میں حاملہ ہوں گی۔

بعض روایات میں ہے کہ ایسے شخص پر اللہ نظر رحمت نہیں فرمائیں گے۔(۱)اس لئے سچی توبہ کریں۔(۲)اللہ کے دیکھنے کا استحضار کریں۔ (۳)ان وعیدوں کا استحضار کریں۔ (۴)روزے رکھنے کا اہتمام کریں۔(۵) تنہائی اختیار کرنے سے بچیں۔(۶)انٹرنیٹ کا استعمال چھوڑدیں۔(۷)بزرگوں کی صحبت اختیار کریں اور ان کی مجالس میں جانے کا اہتمام کریں۔(۸)کلمہ تمجید صبح اور شام سو سو مرتبہ پڑھیں۔ (۸)جب ایسے خیالات آئیں تو تعوذ پڑھیں۔(۹) ممکن ہو تو نکاح جلد از جلد کریں۔بلکہ ایسی صورت حال میں نکاح فرض ہوتا ہے۔اور ایک بات یہاں ماہرین طبیات کے حوالہ سے ذکر کرنا ضروری معلوم ہورہا ہےکہ جن کو ایسی عادت پڑی ہوتی ہے ایسے لوگ نکاح کے بعد بہت جلد ہی اپنی قوت کھو بیٹھتے ہیں اور اس قابل نہیں رہتے ہیں کہ حقوق زوجیت ادا کرسکیں۔ان چیزوں کو ذہن میں رکھیں انشاء اللہ یہ بری عادتیں چھوٹ جائیں گی۔

رہا امامت کا مسئلہ تو جب تک آپ توبہ نہ کریں اور آپ کی یہ عادت چھوٹ نہ جائے اس وقت تک آپ کی امامت مکروہ ہے،امامت سے آپ احتیاط کریں،جب عادت چھوٹ جائے تو پھر امامت کرسکتے ہیں۔

ألا لعنة الله والملائكة والناس أجمعين على …. على ناكح يده(کنز العمال:۴۴۰۵۸)

وإخراج المني باليد حرام في الكتاب والسنة قال الله تعالى: ?َالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ * إِلاَّ عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ * فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ العَادُونَ?[المؤمنون: 5، 6، 7] أي: الظالمون المتجاوزون الحلال إلى الحرام.

قال البغوي: في الآية دليل أن الاستمناء باليد حرام، وهو قول العلماء (2).

قال ابن جريج: سئلت عطاء عنه فقال: «بلغني عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: أن قوماً يحشرون وأيديهم حبالى» وأظنهم هؤلاء۔

( تفسير البغوي (3/303)۔ (شرح صحیح البخاری: لشمس الدین السفیری:۳۴/۲۷)

وعن سعيد بن جبير: عذب الله أمة كانوا يعثبون بمذاكيرهم (4).( تفسير البغوي (3/303).)

’’ ویکرہ امامۃ عبد واعرابی وفاسق واعمی قولہ وفاسق من الفسق وہوالخروج عن الاستقامۃ ولعل المراد بہ من یرتکب الکبائر کشارب الخمر والزانی واٰکل الربا ونحوذلک… واماالفاسق فقدعللوا کراہۃ تقدیمہ بانہ لایہتم لامردینہ وبان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقدوجب علیہم اہانتہ شرعا ولایخفی انہ اذاکان اعلم من غیرہ لاتزول العلۃ فانہ لایؤمن ان یصلی بہم بغیرطہارۃ فہوکالمبتدع تکرہ امامۃ بکل حال المنیۃ علی ان کراہۃ تقدیمہ کراہۃتحریم ‘‘ … ( درمختارمع الشامی : ۴۱۴ / ۱ )

الأولى بالإمامة أعلمهم بأحكام الصلاة. هكذا في المضمرات وهو الظاهر. هكذا في البحر الرائق هذا إذا علم من القراءة قدر ما تقوم به سنة القراءة هكذا في التبيين ولم يطعن في دينه. كذا في الكفاية وهكذا في النهاية.= ويجتنب الفواحش الظاهرة.(الفتاوی الھندیۃ:۱؍۸۳، الفصل الثاني في بيان من هو أحق بالإمامة)

فقط واللہ اعلم بالصواب