Monday | 03 August 2020 | 13 Dhul-Hajj 1441
Gold NisabSilver NisabMahr Fatimi
$5562.28$479$1197.49

Fatwa Answer

Question ID: 513 Category: Permissible and Impermissible
Terminating Pregnancy less than 40 days old due to following reasons?

 

Assalamualaikum,

I would like to find out if it is permissible for us to terminate the pregnancy if it is less than 40 days old with the following background:

We live in USA and have 2 kids Alhamdulillah with older one 3 years and the younger one just 10 months old. We did not plan for it, but my wife is pregnant again and we would like to find out if we can terminate the pregnancy if it’s in very early stages about less than 40 days old?

I strongly believe that having a third child so soon will impact our health, our marriage and our relationship with Allaah. It will have a negative impact on our kids as we have seen it with current kids and we will not be able to raise them the right way in Deen and duniya. Based on that please advise if it is permissible to terminate pregnancy as it is in very very early stages and wait until our situation has improved? ( More situation details below)

We are stable financially Alhamdulillah, but It is already very emotionally/mentally challenging for me and wife to handle two small kids without the help of any relatives. After the birth of our younger child, me and my wife have realized that we are unable to raise the older child the right way. The relationship between us as a couple has deteriorated after second child with lots of arguments and unhealthy discussions due to stress. Undoubtedly our relationship with Allaah has been negatively impacted and we are unable to practice our Deen as we used to, and things are going downhill especially for me as husband. My patience level has dropped, and I get angry easily resulting in fights with the wife or shouting on kids. We have acknowledged it many times that if we had waited a bit longer to have the second child, things would have been very different. Our sleep patterns are very bad with not enough sleep and rest as both the kids cannot sleep by themselves but need parents to make them fall asleep and they wake up 2-3 times every night to be consoled. My migraine problem has increased recently with at least one week/month of headaches. I am worried for my wife’s health as well to have another child so early.

الجواب وباللہ التوفیق

In the situation inquired about, before the start of pregnancy, there was permissibility to temporarily use means to prevent pregnancy. Now when the pregnancy has started there are strong conditions for its abortion. Basically there are three reasons for the permissibility of abortion:

  • Two expert experienced Muslim doctors state after examining the woman that if the pregnancy continues there is extreme danger of the woman’s health to get affected, or loss of her life or part of her body.
  • The woman’s milk has dried due to pregnancy and there is no other possible arrangement for the nourishment of the baby.
  • The pregnancy has occurred due to adultery.

In all three reasons there is permissibility of abortion before the completion of four months, otherwise not.

This is also necessary to clarify that this is foolishness to declare birth of children and their upbringing to be the reason for the deficiency in connection with Allaah and mutual quarreling. There are not only thousands rather hundreds of thousands people who live with two, two rather several children and their life is jubilant and peaceful and they do not have such complaints. Therefore, it is not correct to place blame of our deficiency and incapacity on the upbringing and training of children. This is a proven fact that the upbringing and training of the children is not an easy task. For this the sacrifices and hardships faced by the mother and father do not need a speech. This much inconvenience and hardship is faced by everyone. Therefore, keep the courage, be particular in taking afternoon nap, make effort to sleep early in the night, have soft treatment towards your wife, cooperate with each other in one another’s chores, forgo small tiny mistakes, be particular of reciting Masnoon Dua’as while entering and exiting the house, recite Durood Shareef and Istighfaar in abundance, and if possible develop connection with some Ahl e Haq pious Scholar. Inshaa Allaah these worries will go away.

قولہ جاز لعذر أي یباح لہا أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغةً أو علقةً ولم یخلق لہ عضو، وقدروا تلک المدة بمائة وعشرین یومًا (در مع الرد: ۹/۶۱۵، کتاب الحظر، ط: زکریا)

قال ابن وہبان: فإباحة الإسقاط محمولة علی حالة الأعذار وأنہ لا یأثم إثم القتل (شامي: ۴/۳۳۶، کتاب النکاح، ط: زکریا دیوبند)، ومن الأعذار أن ینقطع لبنھا بعد ظہور الحمل، ولیس لأب الصبي ما یستأجر بہ الظئر ویخاف ہلاکہ (أیضًا)

واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 513 Category: Permissible and Impermissible
۴۰ دن سے کم حمل کو ختم کرنا

میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ اگر حمل ۴۰ دن سے کم مدت کا ہے تو کیا مندرجہ ذیل وجوہات کی وجہ سے حمل اسقاط کرنا جائز ہے :

ہم امریکہ میں رہتے ہیں اور الحمداللہ ہمارے دو بچے ہیں، بڑا تین سال کا اور چھوٹا صرف ۱۰ ماہ کا ہم نے ایسا نہیں چاہا تھا لیکن میری بیوی پھر حاملہ ہوگئی ہے اور ہم یہ معلوم کرنا چاہ رہے ہیں کہ اگر حمل ابتدائی مرحلے میں ہے تقریباً ۴۰ دن سے کم مدت تو کیا ہم حمل اسقاط کرسکتے ہیں ؟

مجھے اس کا اشد یقین ہے کہ اتنی جلدی تیسرے بچے کا ہونا ہماری صحت، ہماری شادی اور اللہ سے ہمارے تعلق کو متاثر کرےگا، یہ ہمارے بچوں پر منفی اثر ڈالے گا جیسا کہ ہم نے اپنے موجودہ بچوں پر دیکھا ہے اور ہم ان کی پرورش دین اور دنیا میں صحیح طریقے پر نہیں کرسکیں گے ، برائے مہربانی ہمیں بتائیے کہ اس بنا پر کیا  حمل اسقاط کرنا جائز ہے جبکہ وہ بہت ابتدائی مرحلے میں ہے اور دوبارہ حمل کے لیے اس وقت تک انتظار کریں کہ ہماری حالت  بہتر ہوجائے؟

الحمد للہ مالی طور پر ہم مستحکم ہیں لیکن کسی بھی رشتہ داروں کی غیر موجودگی میں ذہنی اور جذباتی طور پر میرے اور میری بیوی کے لیے بہت مشکل ہوچکا ہے کہ اپنے دونوں  موجودہ چھوٹے بچوں کا خیال رکھ سکیں، چھوٹے بچے کی پیدائش کے بعد مجھے اور میری بیوی کو احساس ہوچکا ہے کہ ہم اپنے بڑے بچے کی پرورش صحیح نہیں کرپارہے ہیں، دوسرے بچے کے بعد ہمارے درمیان شادی شدہ جوڑے کا تعلق بری طرح متاثر ہوچکا ہے اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے بہت سے جھگڑے اور غیر صحتمندانہ بحث مباحثے ہوچکے ہیں، بلا شبہ ہمارا اللہ سے تعلق بھی منفی طور پر  متاثر ہوچکا ہے اور ہم دین پر بھی اس طرح نہیں چل  پائے  ہیں جیسے ہم پہلے چلتے تھے، اور حالات  پستی کی طرف جارہے ہیں خاص طور پر میرے  لیے خاوند کی حیثیت سے ، میری صبر کرنے کی حد گر گئی ہے اور مجھے آسانی  سے غصہ آجاتا ہے جس کی وجہ سے بیوی سے جھگڑا ہوجاتا ہے یا بچوں پر چیخنے لگتا ہوں، ہم نے اس بات کا کئی دفعہ اعتراف کیا ہے کہ اگر ہم نے دوسرے بچے کے لیے تھوڑا اور انتظار کیا ہوتا تو حالات بہت مختلف ہوتے، ہماری  سونے کی ترتیب بہت بگڑ گئی ہے اور ہماری نیند پوری نہیں ہوتی اور خاطر خواہ آرام نہیں ملتا کیونکہ دونوں بچے خود سے نہیں سو سکتے ، انہیں والدین کی ضرورت  ہوتی ہے کہ وہ انہیں سلائیں  اور رات میں بھی دو تین دفعہ جاگ اٹھتے ہیں اور   انہیں تھپکا بہلا کر پھر سلانا پڑتا ہے، حال ہی میں میرے آدھے سر کے درد کا مسئلہ بڑھ گیا ہے اور مہینہ میں ایک ہفتہ اور زیادہ ہونے لگا ہے ، اس کے علاوہ اتنی جلدی ایک اور بچہ ہونے کی وجہ سے اپنی بیوی کی صحت کے لیے بہت پریشان ہوں۔

 

 

الجواب وباللہ التوفیق 

صورتِ مسؤلہ میں استقرار حمل سے قبل اس کی گنجائش  تھی کہ عارضی طور پر مانع حمل کوئی تدبیر اختیار  کرلیں ،اب جب استقرار حمل ہوچکا ہے تو اس کے اسقاط کے شرائط بھی سخت ہیں۔ بنیادی طور پر ایسے اعذار تین ہیں: (۱) دو ماہر تجربہ کار مسلم ڈاکٹر عورت کا معائنہ کرکے یہ بتادیں کہ اگر یہ حمل باقی رہا تو عورت کی صحت متاثر ہونے یا اس کی جان یا اس کے کسی عضو کے تلف ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ (۲) حمل کی وجہ سے عورت کا دودھ خشک ہوگیا ہو اور دوسرے ذرائع سے بچے کی پرورش کا انتظام ممکن نہ ہو۔ (۳) زنا سے حمل ٹھہرگیا ہو، ان تینوں  اعذار  میں چار ماہ سے قبل حمل ساقط کرانے کی گنجائش ہے۔ورنہ نہیں۔

یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے اولاد کی پیدائش اور ان کی پرورش کو  اللہ سے تعلق میں کمی اور لڑائی جھگڑوں کا سبب قرار دینا نادانی ہے،دنیا میں ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ دو  ، دو نہیں کئی کئی بچوں کے ساتھ رہتے  ہیں ، ان کی زندگی خوشحال اور پر امن ہے،اور ان کو اس طرح  کی شکایت بھی نہیں ہے، اس لئے اپنی کمی اور کوتاہی کا الزام اولاد کی پرورش اور تربیت  پر دھرنا درست نہیں ہے، یہ بات مسلم ہے کہ اولاد کو پالنا اور ان کی پرورش کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے،اور ان کے لئے ماں باپ کی قربانیاں اور مشقتیں محتاجِ بیان نہیں ہیں ،اتنی تکلیف اور مشقت تو ہر کسی کے ساتھ ہوتی ہے،اس لئے ہمت رکھیں ،قیلولہ کا اہتمام کریں، رات جلد سونے کی فکر کریں ،بیوی کے ساتھ نرم رویہ رکھیں، ایک دوسرے کے کاموں میں تعاون  کریں ، چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو درگزر کریں،گھر میں آتے جاتے مسنون دعاؤں کا اہتمام کریں،درود شریف اور استغفار کی کثرت کریں،اور ممکن ہوتو کسی اہل حق متقی  عالم سے اپنا تعلق قائم کریں۔انشاء اللہ یہ پریشانیاں دور ہوجائیں گی۔

قولہ جاز لعذر أي یباح لہا أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغةً أو علقةً ولم یخلق لہ عضو، وقدروا تلک المدة بمائة وعشرین یومًا (در مع الرد: ۹/۶۱۵، کتاب الحظر، ط: زکریا)

قال ابن وہبان: فإباحة الإسقاط محمولة علی حالة الأعذار وأنہ لا یأثم إثم القتل (شامي: ۴/۳۳۶، کتاب النکاح، ط: زکریا دیوبند)، ومن الأعذار أن ینقطع لبنھا بعد ظہور الحمل، ولیس لأب الصبي ما یستأجر بہ الظئر ویخاف ہلاکہ (أیضًا)

واللہ اعلم بالصواب