Monday | 17 December 2018 | 9 Rabiul-Thani 1440

Fatwa Answer

Question ID: 85 Category: Miscellaneous
Rectification of Nazar by Wearing a Ring

Assalamualaikum Warahmatullah

I recently visited a mufti sahib to get guidance about how each and everything we (me and my family) buys by the grace of Allah Subhanahu Wa Ta‘ala is either being damaged, sold back or loaned upon. Alhamdulillah I always ask Allah Subhanahu Wa Ta‘ala for safety from people's nazar and jealousy, since some people say that said nazar is so powerful that it can crush a mountain into dust.

I was advised by the mufti sahib to continue the dua, perform astaghfar abundantly and he also asked me to wear a silver ring with a hoopoe bird's eye enclosed inside with any random stone in the outer part. Upon further enquiring about this ring, I was told that it will keep me safe from nazar, jealousy etc. Now my only problem is that I've never wore a ring but I do know that silver up to a tola (10gm) or a little over is permissible. I wanted to confirm if it is ok to wear such a ring especially with hoopoe’s eye enclosed? I have done my research about the bird and have found out that this was the bird Hazrat Suleman Alyhissalam used as his informer. Please shed some light on the permissibility or impermissibility. I already have a silver ring with aqeeq stone in it, I will just have to put the eye of the hoopoe in it.

JazakAllahu Khaira

 

الجواب وباللہ التوفیق

It is correct that evil effects of the eye affects people and these effects have been proven from the ahadith of Rasulullah Sallallaho Alyhi Wasallam. Rasulullah Sallallaho Alyhi Wasallam has asked for Allah Subhanahu Wa Ta‘ala’s refuge from these effects and has ordered us to do the same. But one should also remember the fact that the benefit or harm in something is solely from Allah Subhanahu Wa Ta‘ala, whether it’s the issue of the effects of the evil eye or the protection and safeguarding from them. Therefore, if someone completely trusts in the majesty of Allah Subhanahu Wa Ta‘ala and keeps the faith in considering Him as the one with absolute effect, then it is permissible for them to get its treatment done, provided they remain in the bounds of the permissible actions. The best method for treating such evil effects is mentioned in the ahadith i.e. Rasulullah Sallallaho Alyhi Wasallam read the following dua on Hazrat Hasan and Hussain RaziAllah Ta‘ala Anhuma in order to get rid of the effects of evil eye:

(أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ(سنن ابی داود:کتاب السنۃ:۴۷۳۹)

You should start reading maudathain regularly as after the revelation of maudathain, Rasulullah Sallallaho Alyhi Wasallam used to read them instead of the other supplications.

As far as wearing the ring is concerned, by doing so one’s mind gets focused towards the effectiveness of an object instead of the effect being from Allah Subhanahu Wa Ta‘ala and thus their beliefs become corrupted, which is against the rules of te Islamic belief of Tawheed (onness of Allah Subhanahu Wa Ta‘ala). Therefore it is better to focus on reading the supplications which are from the nusoos (Quran and Hadith).

عَنْ أَبِى سَعِيدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَتَعَوَّذُ مِنَ الْجَانِّ وَعَيْنِ الإِنْسَانِ حَتَّى نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ فَلَمَّا نَزَلَتَا أَخَذَ بِهِمَا وَتَرَكَ مَا سِوَاهُمَا. (سنن ترمذی:کتاب الطب: باب مَا جَاءَ فِى الرُّقْيَةِ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ،۲۱۹۸)

Note: The accurate amount of the silver that a man can wear in form of a ring is equal to 1 mithqal i.e. 4 grams and 374 miligrams. It is impermissible to wear a silver ring heavier than the above mentioned weight.

ایضاح النوادر ۲؍۱۹) ولا یزید وزنہ علی مثقال لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: إتخذہ من ورق ولا تزدہ علی مثقال۔ (البحر الرائق ۸؍۳۵۰ زکریا)

واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 85 Category: Miscellaneous
انگوٹھی کے ذریعہ نظر بد سے بچاؤ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میں حال ہی میں ایک مفتی صاحب کی خدمت میں اک مسئلہ دریافت کرنے کے لئے پیش ہوا، کہ میں اور میرے گھر والے اللہ تعالی کے فضل سے کچھ بھی خریدتے ہیں تو وہ چیز یا تو ٹوٹ جاتی ہے، یا ہمیں بیچنا پڑ جاتی ہے یا پھر ہم اس کی وجہ سے قرض دار ہو جاتے ہیں۔ الحمد للہ میں ہمیشہ اللہ تعالی سے نظر بد اور حسد وغیرہ سے بچنے کی دعا مانگتا ہوں۔ چونکہ میں نے لوگوں سے یہ سنا ہے کہ نظر اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ وہ پہاڑ کوریزہ ریزہ کر سکتی ہے۔

مفتی صاحب نے مجھے یہ مشورہ دیا کہ میں اپنی دعا جاری رکھوں، کثرت سے استغفار کروں، اور ساتھ ہی انھوں نے مجھے ایک چاندی کی ایسی انگوٹھی پہننے کے لئے بھی کہا جس کے اندر "ہد ہد " نامی پرندے کی آنکھ جڑی ہوئی ہو، کسی بھی دیگر پتھر کے ساتھ۔ مزید پوچھنے پر انھوں نے مجھے یہ بتایا کہ یہ انگوٹھی مجھے بدنظر، حسد وغیرہ سے بچائے گی۔ میرا مسئلہ اب یہ ہے کہ میں نے کبھی انگوٹھی پہنی نہیں حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ ایک تولے یا سوا تولے تک کی چاندی کی انگوٹھی پہننا مردوں کے لئے جائز ہے۔ میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کیا ایسی انگوٹھی پہننا جائز ہے جس میں ہد ہد کی آنکھ جڑی ہوئی ہو؟ میرے علم اور تحقیق کے مطابق یہ وہ پرندہ ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے مخبر کے طور پر کام کرتا تھا۔ براہ کرم اس انگوٹھی کے پہننے یا نہ پہننے کے بارے میں فتوی مرحمت فرمائیے۔ میرے پاس پہلے سے ایک چاندی کی انگوٹھی رکھی ہوئی ہے جس میں عقیق نامی پتھر جڑا ہوا ہے، مجھے صرف ہد ہد کی آنکھ اس میں مزید لگانی پڑے گی۔

جزاک اللہ خیرا ۔

الجواب وباللہ التوفیق

 

یہ بات صحیح ہے کہ نظر بد ہوتی ہے،احادیث میں اس کا ثبوت ہے،اور اللہ کے نبی نے نظر بد سے پناہ مانگی ہے،اور پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے،لیکن یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہیے کہ کسی بھی چیزمیں نفع اور نقصان من جانب اللہ ہوتاہے، چاہے نظر بد کا لگنا ہو یا یا اس سے حفاظت اور عافیت کا مسئلہ ہو،اس لئے اگر اللہ کی ذات ہی پر بھروسہ رکھ کر اور اللہ ہی کو مؤثر بالذات سمجھ کر جائز حدود ہی میں رہتے ہوئے اس کا علاج کروایاجائے توجائز ہے،اس کے لئے سب سے بہتر طریقہ وہی ہے جو احادیث میں منقول ہےکہ اللہ کے نبیﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین کی نظر اس دعا(أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ(سنن ابی داود:کتاب السنۃ:۴۷۳۹)کے ذریعہ اتارتےتھے، بالخصوص معوذتین پڑھنے کا معمول بنائیں، اللہ کے نبی معوذتین کے نازل ہونے کے بعد دیگر ادعیہ کر ترک فرماکر اسی کے پڑھنے کا اہتمام کرتے تھے۔

رہا انگوٹھی میں آنکھ لگاکر پہننے کا مسئلہ تو اس میں عقیدہ کے بگاڑ اور غیر اللہ کے موثر ہونے کی طرف ذہن متوجہ ہوتا ہے،جوکہ اسلامی عقیدہ ٔ توحید کے منافی ہے،اس لئے منصوص دعاؤں کا اہتمام کریں تو زیادہ بہتر ہے۔

عَنْ أَبِى سَعِيدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَتَعَوَّذُ مِنَ الْجَانِّ وَعَيْنِ الإِنْسَانِ حَتَّى نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ فَلَمَّا نَزَلَتَا أَخَذَ بِهِمَا وَتَرَكَ مَا سِوَاهُمَا. (سنن ترمذی:کتاب الطب: باب مَا جَاءَ فِى الرُّقْيَةِ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ،۲۱۹۸)

نوٹ :مرد کے لئے چاندی کی انگوٹھی پہننے کی صحیح مقدار ایک مثقال ہے، جو موجودہ گراموں کے اعتبار سے ۴؍گرام ۳۷۴؍ملی گراا ہے۔اس سے زائد مقدار کی انگوٹھی پہننا جائز نہیں ہے۔ (ایضاح النوادر ۲؍۱۹) ولا یزید وزنہ علی مثقال لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: إتخذہ من ورق ولا تزدہ علی مثقال۔ (البحر الرائق ۸؍۳۵۰ زکریا)

فقط واللہ اعلم بالصواب