Sunday | 27 May 2018 | 11 Ramadhan 1439

Fatwa Answer

Question ID: 182 Category: Worship
Using Mosque's Land for Investors' Personal Gains

Assalamualaikum Mufti Sahib

We did fundraising in our area by telling the donors that we will buy approximately 11 acres land for building a mosque and Islamic school for the Muslim community and also created a nonprofit 501c3 organization with the State. We built the mosque and Islamic school with yearly fundraising for more than 20 years and continue to operate them through fundraising and revenue from the Islamic school (which is running as for profit). We can also do this endowment project by fundraising and taking loans if needed.

Now in our mosque Islamic center is run by a Board of Trustees (BOT) which is elected by members of the committee to ensure everything is run protecting Islamic law and safeguarding the Muslims community’s wellbeing. They are mentioning to the community that a 501c3 organization cannot have for profit projects, which is incorrect, as IRS mentions that the nonprofit organizations can have for profit projects, but they have to complete form 990 at the yearend to claim profit taxes if any. 

Recently, the BOT has been trying to approve a for profit LLC lease over one third of the mosque’s land, to build 9 duplex structures, initially for rental investment. The cost of the project is around 2.2 million, which has to be paid in 20 years, all profits will be distributed to the 30+ investors after expenses but only would give mosque approximately only $12,500 yearly for 20 years. Then the structures will become an endowment for the mosque. They have shown the lease drafts when asked.

It states that the LLC’s financials would be private to their LLC members and will not be disclosed to even the members. They are mentioning that they are doing this for the mosque’s endowment but in turn it will be bringing a huge return on investment for the 30+ investors.

Please provide us a Shar‘ai ruling in the following matters:

1) Can a BOT of our mosque they assign this land’s lease without getting approval from general members? Since they would personally invest and get benefited many fold in 20 years? Will this be allowed in Islam because we have heard that the land of the mosque is considered waqf and should only be used for the benefits of the mosque?

2) Will the personal gains received by the 30+ members based on the above details be considered permissible? Also, is it OK that they are not disclosing the LLC’s financials? Is it Islamically correct to keep secrecy from the mosque’s members and using the waqf, when financials are needed for performing income and expenses balances correctly.

JazakAllahu Khaira

Walaikumassalam Warahmatullahi Wabarakatuhu

الجواب و باللہ التوفیق

1- In order to benefit the mosque and support is financial needs, if construction on the land belonging to the mosque is deemed required, then there is gunjaish (provision for permissibility) in performing such construction and taking loan for it.

2- If the loan is acquired and the said construction is performed, the newly constructed structure(s) will remain as the mosque’s property and no one else’s. However, the people who have given the loan shall have their moneys returned to them only in the amount of the loan and nothing extra should be given back to them. Such repayment can be performed in any suitable agreed upon manner or method such as through the rent from the houses or any other source. But it should be noted that generating any personal gain from this process or making extra money on the loan which was given is considered an interest based transaction from a Shar‘ai standpoint, and apparently there is an indication of that in the said situation. Therefore, if there is any possibility like that, then it is mandatory to refrain from it.

3- When the school was designed, it was done under the notion of a nonprofit organization and the donation was collected under that same intention as well, therefore, if any aspect of the school is being used for one’s personal gain, then that will also be considered impermissible.

4- Since both the issue of the mosque and the school are related to waqf, which is also related to loan for the mosque and the rights of the general public, and then there are committee members who cooperate in these operations who have been chosen so that such consultation can be done and their help can be utilized, then in that situation it is not suitable to hide the details of this whole operation, especially when there have been indications of dishonesty.

5- The matter of utilizing people’s inheritance money for such construction etc. is also something which needs clarification because the estate of a deceased should be distributed among the heirs or at least such moneys should be utilized with the approval of the heirs. Otherwise, the deceased had to have mentioned the details of the bequeathed in their will. If the deceased had left a clause in the will to donate to the mosque, then only a maximum of one third of their estate can be taken for this purpose. Therefore, further details should be provided in this matter to get a more tailored response.

لایجوز الاستدانۃ علی الوقف إلا إذا احتیج إلیہا لمصحلۃ الوقف کتعمیر الخ وفی الشامیۃ ہو المختار أنہ إذا لم یکن من الاستدانۃ بدٌّ یجوز بأمر القاضی إن لم یکن بعیداً عنہ الخ۔

(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ۴۴/۱۹۳)

ویجوز للمتولی إذا احتاج إلیٰ العمارۃ أن یستدین علی الوقف ویصرف ذلک فیہا والأولیٰ أن یکون بإذن الحاکم الخ۔

(البحرالرائق، کوئٹہ ۵/۲۱۱، زکریا۵/۳۵۳)

والاستدانۃ أما إذا کان للوقف غلۃ فأنفق من مال نفسہ لإصلاح الوقف فإن لہ أن یرجع بذلک فی غلۃ الوقف۔

(البحرالرائق، ۵/۳۱۱)

أما لو تمت المسجدیۃ ثم أراد البناء منع (الدر المختار) وأما لو تمت المسجدیۃ ثم أراد ہدم ذٰلک البناء؛ فإنہ لا یمکن من ذٰلک۔

(الدر المختار مع الشامي، کتاب الوقف / مطلب في أحکام المسجد، ۶؍۵۴۸ زکریا)

شرط الواقف کنص الشارع أي في وجوب العمل بہ، وفي المفہوم والدلالۃ۔

( کذا في الدر المختار، کتاب الوقف / مطلب استأجر دارًا فیہا أشجار، ۶؍۶۴۹ زکریا)

علی أنہم صرحوا بأن مراعاۃ غرض الواقفین واجبۃ۔

(شامي، کتاب الوقف / مطلب: مراعاۃ غرض الواقفین واجبۃ والعرف یصلح مخصصًا ۶؍۶۶۵ زکریا)

فقط واللہ اعلم بالصواب

 

Question ID: 182 Category: Worship
مسجد کی زمین کو سرمایہ کاروں کے ذاتی منافع کے لئے استعمال کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ہم نے اپنے علاقے کے مسلانوں سے یہ بتا کر چندہ جمع کیاکہ کمیونٹی کے لیے ایک گیارہ ایکڑ کی جگہ خریدی جائے گی جس پر مسجد اور اسلامک اسکول بنایا جائے گا، اور حکومت کے ساتھ اس ادارے کوایک رفاہی ادارے کے طور پر رجسٹر بھی کروا دیا ۔ اب پچھلے قریب ۲۰ سال سے ہر سال اسی طرز پر چندہ اکٹھا کر کے مسجد اور اسلامک اسکول قائم کیا گیا، اب اسکول سے آنے والی فیس اور چندے کے ذریعے ان دو اداروں کو چلایا جا رہا ہے، البتہ اسکول کو محض رفاہی ادارے کے نہیں بلکہ اک اسکول کی طرح بھی چلایا جا رہا ہے جہاں سے آنے والے نفع کو مسجد اور اسکول کے خرچوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔اس طرح لوگوں سے چندہ اکٹھا کر کے، قرضے لے کر اور لوگوں کی میراث وغیرہ سے آنے والے مال کے ذریعے یہ ادارے چلائے جا رہے ہیں۔

ہماری مسجد کا اسلامک سینٹر ایک بورڈ آف ٹرسٹیز کے ذریعے چلایا جاتا ہے، ان بورڈ کے ممبرز کو ممبرز چنتے ہیں تاکہ ان اداروں کو ایک محفو ظ انداز سے اور اسلامی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے چلایا جا رہا ہے، تاکہ مسلمان کمیونٹی کو دیر پا طرز پر اسلامی اداروں کی صورت میں سروس فراہم کی جا سکے۔ بورڈ ممبرز اس کمیونٹی کے لوگوں کو یہ بات بتا رہے ہیں کہ حکومتی اصولوں کے مطابق کسی رفاہی ادارے کو رفاہ کے علاوہ منافع کے طور پر کوئی کاروبار کرنے کی اجازت ٹیکس اتھارٹی کی جانب سے نہیں ہوتی، الّا یہ کہ سال کے آخر میں ٹیکس فائل کرتے ہوئے یہ بتایا جائے اور ۹۹۰ نامی فارم بھرا جائے تاکہ تمام تر منافع ظاہر کر کے   اس پر لاگو ہونے والا ٹیکس ادا کیا جائے۔

حال ہی میں، مسجد کی ایک تہائی زمین پر منافع کی نیت سے ایک لیز (قرض حاصل کرنے کا ایک طریقہ) قائم کرنا چاہ رہے ہیں تاکہ اس پر ۹ دو منزلہ مکانات تعمیر کئے جائیں اور تعمیر کے بعد ان مکانوں کو کرائے پر چڑھا یا جائے۔ اس پراجیکٹ پر کل آنے والی لاگت دو اعشاریہ دو ملین ڈالر ہوگی، اور اس کا قرض اتارنے میں ۲۰ سال لگیں گے۔ ان بیس سالوں تک، اس پراجیکٹ پر پیسہ لگانے والے حضرات کو اس پر آنے والے منافع میں سے تمام تر خرچ نکالنے کے بعد تقسیم کیا جائے گا، اور آخر میں مسجد کو قریب ۱۲،۵۰۰ ڈالر سالانہ ملیں گے۔ ۲۰ سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد یہ تمام پراپرٹی مسجد کو مل جائے گی اور اس سے آنے والا تمام نفع بھی مسجد کے لئے وقف ہو جائے گا۔ بورڈ آف ٹرسٹیز نے یہ تمام دستاویزات اب جا کر دکھائیں ہیں جب ان سے اس کو دیکھنے پراصرار کیا گیا۔

اس دستاویز میں یہ بات بھی تحریر ہے کہ یہ لیز کا معاہدہ ایک کمپنی کے تحت ہو گا (جس میں وہ سرمایہ کار شامل ہوں گے جو اس پر پیسہ لگا رہے ہیں) اور اس میں تمام تر حساب کتاب کی تفصیل کسی کے سامنے بھی نہیں لائی جائے گی سوائے ان سرمایہ کاروں کے جو اس کا حصہ ہیں۔ حتی کے مسجد کے ممبرز کے سامنے بھی نہیں ۔ وہ البتہ اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ یہ سب مسجد کے فائدے کے لئے کر رہے ہیں اور آخر کار بننے والے مکانات مسجد کے لئے ہی وقف ہو جائیں گے، حالانکہ اس سرمائے کے لگانے سے ان تمام سرمایہ کاروں کو ایک بہت بڑے نفع کی شکل دکھنے والی ہے۔ اس مسئلے میں راہنمائی فرمائیے کہ :

۱- کیا بورڈ آف ٹرسٹیز اس معاہدے کو مسجد کے عام ممبرز کی منظوری کے بغیر ، حالانکہ اس سرمایہ کاری کے تحت ان تمام لوگوں کو ۲۰ سال تک خوب فائدہ ملنے والا ہے، کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے کہ مسجد کی زمین جو مسجد کے لئے وقف ہوتی ہے ، اس کو اس انداز سے استعمال کیا جائے؟ حالانکہ مقصد مسجد کا فائدہ ہی کیوں نہ ہو؟

۲- کیا ان لوگوں کا مسجد کی وقف زمین پر پیسہ لگا کر مکانا ت کو کرائے پر چڑھانا اور اس سے فائدہ اٹھانا جائز ہو گا؟ کیا اس تمام مسئلے کے حساب کتاب کو عام لوگوں سے چھپانا جائز ہے؟ جبکہ اس حساب کتاب کا سامنے آنا پبلک کےلئے اس لئے بھی ضروری ہوتا ہے کہ وہ یقین کر سکیں کہ اس حساب کتاب کو مسجد /وقف کے کاموں ہی میں استعمال کیا جا رہا ہے۔جزاک اللہ خیرا.

 

 الجواب وباللہ التوفیق

(۱) مسجد کے فائدے اور اخراجات کی تکمیل کے لئے اگر تعمیر کی ضرورت محسوس ہورہی ہوتو مسجد کی زمین پر تعمیر اور اس کے لئے قرض لینے کی گنجائش ہے۔

(۲) اگر قرض لے کر مسجد کے منفعت کے لئے مسجد کی جگہ میں   تعمیر کردی بھی جائے تو وہ مسجد ہی کی ملکیت شمار ہوگی،کسی اور کی نہیں، ہاں قرض دینے کے بعد قرض دہندہ کو اس کا قرض واپس کیاجائے گا،اور اتنا ہی قرض واپس کیاجائے گا جتنا اس نے دیا ہے۔اور اس کی جوشکل مناسب ہو تجویز کرلی جائے،مکانات کے کرایہ کے ذریعہ ہو یا کسی اور ذریعہ،لیکن یاد رکھیں کہ اس سے ذاتی نفع اٹھانا یا قرض دے کر رقم کی واپسی میں کچھ زائد رقم لینا شرعا سودی معاملہ ہے،اور بظاہر یہاں اس کا امکان نظر آرہاہے ۔ اس لئے اگر ایسی شکل ہوتو اس سے بچنا لازم و ضروری ہے۔

(۳) اسکول کی بنیاد بھی رفاہی طور پر ہوئی،اور اس کا چندہ بھی اسی بنیاد پر کیاگیا ہے اس لئے اس کااستعمال اگرذاتی طور پر ہورہاہو یا ذاتی منفعت کے لئے ہورہاہو تو وہ بھی نا جائز ہے۔

(۴)چونکہ مسجد اور اسکول کا معاملہ وقف پر مبنی ہے،نیز یہ مسئلہ مسجد کےقرضہ سے بھی متعلق ہے،اور عوام الناس کا بھی حق اس سے وابستہ ہے،اور پھر کمیٹی کے جوممبرس ہیں ان کا تعاون بھہی ہوتا رہتا ہے،اور پھران کو ممبر اسی لئے بنایاگیا ہے کہ ان سے مشورہ کیاجائے،اور معاملات کے حل میں ان کی مدد لی جائے،ایسے موقع پر ان سے بھی اس معاملہ کو چھپانا مناسب نہیں ہے۔بالخصوص جب کہ اس مسئلہ میں خیانت کی جھلکیاں نظر آرہی ہوں۔

(۵)لوگوں کی میراث سے اس کی تعمیر بھی وضاحت طلب مسئلہ ہے،کیونکہ میراث مرحوم کے وارثین میں تقسیم کرنا ضروری ہے،یا پھروارثین کی اجازت ہونا ضروری ہے،یا پھرمرحوم کاوصیت کرنا ضروری ہے،اگر مرحوم نے وصیت کی ہوتو تہائی مال ہی تک اس کو مسجد میں لگانے کی گنجائش ہے، اس لئے اس کی جو بھی شکل پیش آرہی ہے اس کو لکھ کر مسئلہ معلوم کرکے اس کو مسجد میں لگائیں۔ 

لایجوز الاستدانۃ علی الوقف إلا إذا احتیج إلیہا لمصحلۃ الوقف کتعمیر الخ وفی الشامیۃ ہو المختار أنہ إذا لم یکن من الاستدانۃ بدٌّ یجوز بأمر القاضی إن لم یکن بعیداً عنہ الخ۔

(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ۴۴/۱۹۳)

ویجوز للمتولی إذا احتاج إلیٰ العمارۃ أن یستدین علی الوقف ویصرف ذلک فیہا والأولیٰ أن یکون بإذن الحاکم الخ۔

(البحرالرائق، کوئٹہ ۵/۲۱۱، زکریا۵/۳۵۳)

والاستدانۃ أما إذا کان للوقف غلۃ فأنفق من مال نفسہ لإصلاح الوقف فإن لہ أن یرجع بذلک فی غلۃ الوقف۔

(البحرالرائق، ۵/۳۱۱)

أما لو تمت المسجدیۃ ثم أراد البناء منع (الدر المختار) وأما لو تمت المسجدیۃ ثم أراد ہدم ذٰلک البناء؛ فإنہ لا یمکن من ذٰلک۔

(الدر المختار مع الشامي، کتاب الوقف / مطلب في أحکام المسجد، ۶؍۵۴۸ زکریا)

شرط الواقف کنص الشارع أي في وجوب العمل بہ، وفي المفہوم والدلالۃ۔

( کذا في الدر المختار، کتاب الوقف / مطلب استأجر دارًا فیہا أشجار، ۶؍۶۴۹ زکریا)

علی أنہم صرحوا بأن مراعاۃ غرض الواقفین واجبۃ۔

(شامي، کتاب الوقف / مطلب: مراعاۃ غرض الواقفین واجبۃ والعرف یصلح مخصصًا ۶؍۶۶۵ زکریا)

فقط واللہ اعلم بالصواب