Thursday | 24 May 2018 | 8 Ramadhan 1439

Fatwa Answer

Question ID: 189 Category: Business Dealings
Inheritance in Deceased Father's Pension

My father died few years ago. We are 2 sisters including me and 1 brother and my mother. My mother lives in India and for some months in the US. My mother receives my father’s pension and some money from rents from our property in India. The question is if all the money she gets in India including pension and rents from properties will belong to her or it should be distributed among all 4 of us according to the Islamic rules of inheritance? What is the Shar‘ai teaching regarding the inheritance in this matter?

JazakAllahu Khaira

Walaikumassalam Warahmatullahi Wabarakatuhu

الجواب و باللہ التوفیق

Since inheritance is calculated from the wealth one owned at the time of their demise whereas pension and similar survivor benefits are acts of cooperation and thankfulness from the state, it is up to the state who it issues that amount of pension to, no other inheritors will have a right over that money. If however, the amount of such pension and benefits were deposited with the deceased before their death, then it will be considered as part of the overall estate or wealth of the deceased and all inheritors will have their share in it. As far as the properties and their rent is concerned, since these were owned by your father, the properties and any profit from them will be shared by the heirs. The method of this division will be to divide the total wealth into 32 equal shares of which 4 shares should be given to your mother, 7 shares each to your sisters and 14 shares should be given to the son.

المالک ہو المتصرف في الأعیان المملوکۃکیف شاء من الملک۔ (بیضاوي شریف، مکتبۃ رشید ۱/۷)الملک مامن شانہ أن یتصرف فیہ بوصف الاختصاص۔

(شامي، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، مطلب في تعریف المال۔ مکتبۃ زکریا دیوبند ۷/۲۳۵، کراچي ۵/۵۰)

فقط واللہ اعلم بالصواب،

Question ID: 189 Category: Business Dealings
والد کی پینشن میں وراثت کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میرے والد کا کچھ سال پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ ہم دو بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔میری والدہ انڈیا میں رہتی ہیں اور چند ماہ امریکہ میں ۔ میری والدہ کو میرے والد کی پینشن ملتی ہے اور ہمارے مکانوں سے کچھ کرایہ بھی ان کو آتا ہے۔ وہ سارے پیسے وہ استعمال کرتی ہیں۔ کیا ان پیسوں کو ہم چاروں میں تقسیم ہونا چاہے، یا یہ ان کو استعمال کرتے رہنا چاہئے؟ شریعت کا اس سلسلے کی وراثت کے بارے میں کیاحکم ہے اس معاملے میں برائے مہربانی ہماری مدد کیجیے۔جزاک اللہ خیرا۔

 

الجواب وباللہ التوفیق

چونکہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے، اور وظیفہ سرکار کی جانب سےمحض تبرع واحسان ہوتا ہے،اس لئے مرحوم کے بعد سرکار کو اختیار ہوگا کہ جس کو چاہے دے،اس میں کسی اور وارث کا حق نہیں ہوگا۔البتہ وظیفہ کی رقم اگر پہلے سے مرحوم کے پاس جمع تھی تو اس میں سب کا حصہ ہوگا،اور رہے مکانات اگر یہ بھی مرحوم والد کے تھے اور ان سے کرایہ آتا ہے تو ان مکانات میں اور اس کے نفع میں بھی آپ سب لوگوں کا حصہ ہوگا۔اور تقسیم کی شکل یہ ہوگی کہ مرحوم کی جائیداد یا جائیداد سے حاصل ہونے والی آمدنی کے کل ۳۲ حصے کئے جائیں،جن میں سے چار ان کی اہلیہ یعنی آپ کی والدہ کو،ہر بیٹی کو سات، سات ،اور بیٹے کو چودہ حصے دئے جائیں۔

المالک ہو المتصرف في الأعیان المملوکۃکیف شاء من الملک۔ (بیضاوي شریف، مکتبۃ رشید ۱/۷)الملک مامن شانہ أن یتصرف فیہ بوصف الاختصاص۔

(شامي، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، مطلب في تعریف المال۔ مکتبۃ زکریا دیوبند ۷/۲۳۵، کراچي ۵/۵۰)

فقط واللہ اعلم بالصواب،