Monday | 24 February 2020 | 30 Jamadiul-Thani 1441
Gold NisabSilver NisabMahr Fatimi
$4667.06$366.19$915.47

Fatwa Answer

Question ID: 511 Category: Social Dealings
Rights of parent

Assalamualaikum,

My son who is almost 18 years an hafiz e quran and studing in public school canada. is very disobedient and there were 3 incidents of his in which police was involved.  (Stealing, Fighting, & holding knives in the school locker with marijuana)

He always tells his mother that I am grown up and we cant say anything to him.  He is somewhat afraid of dad but most of the time doesnt listen at all.  He has regularly smoking and not serious about deen and prayers.  Most of the time he is out of house with his friends who also smoke.  Neighbours have even complaint to us to keep taking care of your son who has more than cigarette habits (Taking marijuana/weed) as well it seems.  

He has no interest in studies and also does not want to go back to native country and always telling his mother that I will not stay at the house and leave once he turns 18 years.  He insists his mother that his dad should be away so that he has the freedom to do as he likes according to his desires coz his dad keeps an eye on him and scolds him every now and then.  He even went to the extent and complained the police that his dad is very strict and beats them which is occassional due to his negligence and the incidents takes place.

Now the situation is that he is living his life at his will as being parent we are helpless in guiding him or telling him coz he is not at all trying to understand and says that when I say something good and requesting to do good actions he replies saying I am like that.  

In such a situation we are very upset and every moment of our life has become unstable.  Considering the above situation and according to the shariah what and till when is the responsibility of the parent to take care of him and he is making our lives miserable.  Till what age is the responsibility of the parent and we cannat afford such problems as we come froom a very respectable family.  Should we allow him to live on his own after 18 years which we are not sure how he will live his life whether on deen or not.  

Could you please guide us and should there be any further details you require, we would be very much pleased to provide you.

Jazakalla khair

الجواب وباللہ التوفیق

The تعلیم وتربیت (training and education) of the children remains the responsibility of the parents until they become mature and this carries several promises from Allaah Ta’alaa. Sometimes Allaah Ta’alaa tests through the children too. There is promise of great reward on fulfilling one’s responsibility to one’s capacity in this regard. Hence, keep trying and seeking means for your son. In addition, recite this Dua’a in abundance, especially after each Salat:

رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا

Change his school from the Public school to any other opportunity available, connect him with the Tablighi Jama’at. Inshaa Allaah there will definitely be benefit from it.

 واللہ الھادی Translation: And Allaah is the guide

Futher, if you are desiring the treatment through Qura’an then call Shariah Board directly.

واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 511 Category: Social Dealings
بیٹے کی تربیت

میرا بیٹا تقریباً اٹھارہ سال کا ہے، حافظ قرآن ہے اور کینیڈا میں پبلک اسکول میں پڑھتا ہے، یہ بہت نافرمان ہے اور چوری، لڑنے،اور اسکول کے لاکر میں چاقو اور چرس رکھنے کی وجہ سے تین دفعہ پولیس سے سابقہ پڑا ہے۔ وہ ہمیشہ اپنی ماں سے کہتا ہے کہ میں بڑا ہوگیا ہوں اور ہم اسے کچھ نہیں کہہ سکتےوہ والد  سے کچھ خوفزدہ رہتا ہے لیکن زیادہ تر بالکل بات نہیں سنتا ہے۔ اسے سگریٹ پینے کی پکی عادت ہے اور دین اور نماز پڑھنے کے بارے میں   سنجیدہ نہیں ہے، زیادہ تر وہ گھر سے باہر اپنے دوستوں کے ساتھ ہوتا ہے وہ بھی سگریٹ پیتے ہیں، پڑوسیوں نے ہم سے شکایت کی ہے کہ ہم اپنے بیٹے کا خیال کریں  کہ اسے صرف سگریٹ پینے کی عادت نہیں ہے بلکہ وہ  چرس بھی پیتا ہے۔اسے پڑھائی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور ہمارے آبائی ملک  بھی  واپس جانا نہیں چاہتا، اپنی ماں کو ہمیشہ کہتا رہتا ہے  کہ جب میں اٹھارہ سال کا ہوجاؤں گا میں گھر میں  نہیں رہوں گا، گھر چھوڑ دوں گا ، وہ کہتا ہے کہ میں اپنے باپ سے دور چلا جاؤں گا تاکہ اسے  آزادی ہوکہ وہ جو چاہے کرسکے کیونکہ اس کے والد اس پر نظر رکھتے ہیں اور اسے ڈانٹتے  رہتے ہیں،  وہ تو یہاں تک بڑھ گیا کہ اس نے پولیس کو شکایت کردی کہ اس کا باپ اس پر بہت سختی کرتا ہے اور اسے مارتا ہے (وہ کبھی کبھار اسے اس کی غفلت اور غلط حرکتوں والے واقعات کی وجہ سے مارتے ہیں ) اب حالات یہ ہیں کہ وہ اپنی مرضی کی زندگی گذاررہا ہے اور ہم والدین  ہوتے ہوئے اس کی رہنمائی کرنے  اور اسے کچھ کہنے میں بے بس ہیں کیونکہ وہ کچھ بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کررہا ہے، جب بھی ہم اسے کچھ اچھی بات کہتے ہیں  اور اس کی منت کرتے ہیں کہ وہ اچھے کام کرے، وہ جواب دیتا ہے کہ میں ایسا ہی ہوں۔اس حالت میں ہم بہت پریشان ہیں اور  ہماری زندگی کا ہر لمحہ انتشار کا شکار ہوگیا ہے، ان سب حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اور شریعت کے مطابق والدین کی کیا اور کب تک ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا خیال کریں جبکہ اس نے ہماری زندگی  مصیبت زدہ بدحال کردی ہے ؟ کس عمر تک والدین کی ذمہ داری ہے؟  ہم ان مسائل  کو سدہار نہیں سکتے کیونکہ ہم ایک بہت معزز خاندان سے ہیں، کیا ہم اسے اٹھارہ سال کا ہوجانے پر اس کی مرضی پر جہاں چاہے جیسا چاہے رہنے کی اجازت دے دیں  جو کہ ہمیں  پتہ نہیں ہے کہ وہ کیسے اپنی زندگی گذارے گا، دین پر  یا نہیں ؟برائے مہربانی ہماری رہنمائی کیجئے اور اگر آپ کو اور تفصیلات چاہیئں تو بتائیے ۔

جزاک اللہ

الجواب وباللہ التوفیق

بالغ ہونے تک  بچوں کی تعلیم وتربیت والدین ہی کی ذمہ داری ہے،اور اس پر اللہ تعالی کی جانب سے  بے شمار وعدے بھی ہیں  اور کبھی  اولاد  سے آزمائش اور امتحان بھی لیا جاتا ہے اس میں بقدر استطاعت اپنے فرائض ادا کرتے رہنے پر اجر عظیم  کا وعدہ ہے لہذا   اس لڑکے لئے تدابیر اختیار کرتے رہیں،نیز اس دعا ء کا کثرت سے ورد رکھیے رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا۔بالخصوص نمازوں کے بعد، پبلک اسکول سے ہٹاکر کسی اور اسکول میں مواقع ہوں تو اس میں شریک کروائیں،تبلیغی جماعت سے منسلک کریں انشاء اللہ العزیز اس سے بھی ضرور نفع ہوگا،واللہ الھادی،نیز اگر آپ کا مقصد علاج بالقرآن وغیرہ ہو تو براہ راست ادارہ کو فون کرکے  رابطہ فرمائیں۔

واللہ اعلم بالصواب