Saturday | 22 February 2020 | 28 Jamadiul-Thani 1441
Gold NisabSilver NisabMahr Fatimi
$4620.94$363.23$908.09

Fatwa Answer

Question ID: 516 Category: Social Dealings
Inheritance for need

Asalamualiakum,

In the past, my father wished to buy some property back home. Grandfather at the time required him to add grandfather's name to the property even though money was earned by my father. My father did so to avoid conflict and to avoid upsetting parents. In addition to this, my father also took care of parents and two brothers and their family back home. Years later grandparents have passed away. We are living in substandard conditions. My father no longer works, states he can no longer has the strength to provide. My mother was forced to start working to provide for family. We live in a one bedroom apt with 4 people. Children are passed the age of puberty. My mom wishes to to move to a bigger apartment but rent is too expensive, she cannot afford. She wishes to buy house but she doesn't have enough. My father refuses to do proper legal documentations to make him the sole owner of the property, even though his siblings are okay to sign papers. He is not willing to help in contributing to buy the home or even to fix the property problem to make it easy for his children to inherit in the future. Is it children's right to ask him to fix property issue? And what is a legal ruling to keep one's family to live in substandard condition when one can sell property to live comfortably? 

الجواب وباللہ التوفیق

The children do not have the right at all that they demand the father for the property. He is the owner of his property. He may keep as he likes, he may give whosoever he likes and may not give whosoever he like. However, the children should take care of his needs and provide comfort to him. If he distributes in his life to prevent future fights, quarrels, and fitnahs then it will be his favor but it is not correct in any way to force him.

Note: If there has been deficiency in fulfilling the rights of the mother or the children then send in the question in writing and ask Fatwa in this matter.

واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 516 Category: Social Dealings
اولاد کا جائیداد کا مطالبہ کرنا

ہم بیرون ملک رہتے ہیں کئی سال پہلے میرے والد اپنے آبائی ملک میں  جائیداد خریدنا چاہتے تھے، میرے دادا نے میرے والد سے اس جائیداد میں اپنا نام لکھوایا حالانکہ جس رقم سے جائیداد خریدی گئی وہ میرے والد نے کمائی تھی، میرے والد نے تنازع سے اور والدین کی ناراضگی سے بچنے کے لیے ایسا ہی کیا، اس کے علاوہ میرے والد اپنے والدین اپنے  دو بھائیوں اور ان کے گھر والوں کے اخراجات بھی اٹھا تے رہے۔

کئی سال کے بعد اب دادا دادی فوت ہوچکے ہیں ہم مالی طور  پر پسماندہ حالت میں رہ رہے ہیں، میرے والد اب کام نہیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب ان میں ہمت نہیں  کہ وہ ہمارے لیے اخرجات اٹھانے  کے لیے مہیا کرسکیں۔ میری والدہ مجبور ہوگئیں کہ وہ باہر کام کرکے گھر کے اخراجات اٹھائیں۔ ہم چار لوگ ایک بیڈروم کے اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں بچے بالغ ہوچکے ہیں  میری ماں بڑے اپارٹمنٹ میں منتقل ہونا چاہتی ہے لیکن کرایہ بہت زیادہ ہے، وہ اتنا برداشت نہیں کرسکتیں، وہ گھر خریدنا چاہتی ہیں لیکن ان کے پاس اتنی رقم نہیں ہے، میرے والد اس جائیداد کو صرف ان کے نام منتقل کرانے کے لیے ضروری قانونی کاروائی کرنے سے انکار کرتے ہیں حالانکہ ان کے بھائی کاغذات پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہیں، وہ ہمارے لیے گھر خریدنے  کے لیے مالی مدد پہنچانے کے لیے آمادہ نہیں،  نہ  ہی وہ آبائی ملک میں جائیداد کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے آمادہ ہیں کہ جس سے ہمیں مستقبل میں یہ جائیداد ورثے میں مل سکے۔

کیا بچوں کو حق ہے کہ وہ والد کو کہہ سکیں کہ وہ جائیداد کے مسئلے کو حل کریں ؟ اور اس بارے میں قانونی حکم کیا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کو پسماندہ حالت میں رکھ رہے ہیں جب کہ جائیداد بیچ کر آرامدہ زندگی  گذاری جاسکتی ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق 

اولاد کو یہ بالکل حق نہیں ہےکہ وہ والد سے جائیداد کا مطالبہ کرے،وہ اپنی جائیداد کے مالک ہیں، جس طرح چاہیں اس کو رکھیں، جس کو چاہیں دیں اور جس کو چاہے نہ دیں،البتہ اولاد کوان کو راحت پہنچانے اور ان کی ضروریات کا خیال کرنا چاہیے، ہاں اگر مستقبل میں لڑائی جھگڑوں اور فتنہ کے اندیشہ سے وہ زندگی میں تقسیم کردیں تو ان کا احسان ہوگا،لیکن انہیں اس پر مجبور کرنا کسی بھی طرح درست نہیں ہے۔

واضح رہےکہ اگر والدہ یا ان کی زیر کفالت اولاد کے حقوق  میں کوتاہی ہورہی ہوتو دوسرا مسئلہ ہے،اس کو لکھ کر مسئلہ دریافت کرلیں۔

واللہ اعلم بالصواب